تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 169 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 169

اتَّصَفَ مَحْمُودُ عِنْدَ اِخْوَانِهِ مِنَ الْمُرْسَلِينَ ، وَمَحْمُودُ عِنْدَ أَهْلِ الْأَرْضِ كُلِّهِمْ ، وَآنُ كَفَرَ بِهِ بَعْضُهُمْ فَإِنَّ مَا فِيْهِ مِنْ صِفَاتِ الكَمَالِ مَحْمُودَةٌ عِنْدَ كُلِّ عَاقِلٍ وَإِنْ كَابَرَ عَقْلَهُ جُحُوداً وَعِناداً وَجَهْلًا باتِّصَافٍ بِهَا وَلَوْ عَلِمَ اِتِّصَافَهُ بِهَا لَحَمِدَهُ فَإِنَّهُ يَحْمَدُ مَن بِصِفَاتِ الكَمَالِ وَيَجْهَلُ وُجُودَهَا فِيهِ فَهُوَ فِي الْحَقِيقَةِ حَامِدٌ له۔“ (جلاء الافهام صفحہ ۱۱۸) یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام محمد اسلئے ہے کہ اس نام محمد کے مسمی ( آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) بہت سی حمدوں کے جامع ہیں۔آپ کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھی حمد کی گئی ہے اور آپ فرشتوں اور مرسلین کے نزدیک بھی حمد کئے گئے ہیں ، اور روئے زمین کے سب لوگ آپ کی حمد کرتے ہیں ، اور جو لوگ عناد اور جہل کے ماتحت آپ کی صفات کمال سے منکر ہیں وہ آپ کے انکاری ہیں لیکن درحقیقت وہ بھی آپ کے حامد ہیں ہاں ان کو صرف ان صفات کا علم نہیں جو حضور میں موجود ہیں۔“ نہایت واضح عبارت ہے۔(د) صاحب زرقانی نے لکھا ہے :- "إِنَّ الْمُحَمَّدَ لُغَةٌ هُوَ الَّذِى حُمّدَ مَرَّةً بَعُدَ مَرَّةٍ إِلَى غَيْرِ النِّهَايَةِ كَالْمَمْدُ وحِ أَوِ الَّذِي تَكَا مَلَتْ فِيهِ الْخِصَالُ الْمَحْمُودَةً “ زرقانی علی المؤطا جلد ۴ صفحه ۲۴۹) پھر زادالمعاد میں لکھا ہے :- 66 " مُحَمَّدٌ هُوَ الَّذِى يَحْمَدُ وَاهْلُ السَّمَوتِ وَاهْلُ الْأَرْضِ “ خود رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں :- (زادالمعاد جلد ۱ صفحه ۲۲) أَلَا تَعْجَبُونَ كَيْفَ يَصْرِفُ اللهُ عَنِّي شَتْمَ قُرَيْشٍ وَلَعَنَهُمُ يَشْتِمُونَ مُذَمَّمَّا وَيَلْعَنُونَ مُذَ مَّمَّا وَأَنَا مُحَمَّدٌ - ( بخاری جلد ۲ صفحه ۶۷ باب ما جاء فی اسماء رسول الله) " کیا یہ بات تمہارے لئے تعجب خیز نہیں کہ اللہ تعالیٰ نے قریش کی گالیوں 169