تفہیماتِ ربانیّہ — Page 140
کی حالت عموما ایسی ہی ہوا کرتی ہے اس میں الہام کی کیا بات ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۴۳) الجواب ا۔کیا جو بات عموما ہوا کرے وہ الہام نہ ہونی چاہئے۔اگر یہ قاعدہ درست ہے تو آیات ذیل کے متعلق آپ کا کیا جواب ہوگا۔الْيَسَاقُ (الف) وَظَنَ أَنَّهُ الْفِرَاقُ وَالْتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ إِلى رَبِّكَ يَوْمَيل (القیامۃ ) آپ کے خیال کے مطابق ” جب مرنے والوں کی حالت عموما ایسی ہی ہوا کرتی ہے تو اس میں الہام کی کیا بات ہے۔“ (ب) فَلْيَنْظُرِ الْإِنْسَانَ مَا خُلِقَ خُلِقَ مِنْ مَّاءٍ دَافِقٍ يَخْرُجُ مِنْ بَيْنِ الصُّلْبِ والترايب (الطارق) ( ج ) أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللهَ يُزجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ من خلله : - الآية ( النور ركوع ) معلوم ہوا کہ اگر چہ ایک بات عموما بھی ہوتی ہو تب بھی الہام ہوسکتی ہے کیونکہ اس میں عبرت دلانے اور ان کے فوائد کی طرف متوجہ کرنے کے علاوہ اور بھی کئی فوائد ہوتے ہیں۔الجواب ۲۔یہ الہام عمومی حالت بیان کرنے کے لئے نہ تھا بلکہ ایک پیشگوئی پر مشتمل تھا۔چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے :- "۔سورجون ۱۸۹۹ ء میں مجھے یہ الہام ہوا پہلے بیہوشی پھر غشی پھر موت۔ساتھ ہی اس کے یہ تفہیم ہوئی کہ یہ الہام ایک مخلص دوست کی نسبت ہے جس کی موت سے ہمیں رنج پہنچے گا۔چنانچہ اپنی جماعت کے بہت سے لوگوں کو یہ الہام سنایا گیا اور الحکم ۳۰/ جون ۱۸۹۹ء میں درج ہو کر شائع کیا گیا۔پھر آخر جولائی ۱۸۹۹ء میں ہمارے ایک نہایت مخلص دوست یعنی ڈاکٹر محمد بوڑیخاں اسٹنٹ سرجن ایک ناگہانی موت سے قصور میں گزرے گئے۔اول بیہوش رہے پھر یکدفعه غشی طاری ہوگئی پھر اس نا پائیدار دنیا سے کوچ کیا اور ان کی موت اور اس الہام میں صرف بین بائیس دن کا فرق تھا۔“ اب اس پر مزید تشریح کی کوئی ضرورت نہیں۔(حقیقۃ الوحی صفحه ۲۱۳ - ۲۱۴) (140)