تفہیماتِ ربانیّہ — Page 9
حمن ال فصل اوّل کا ذب مدعیان نبوت اور سیدنا حضرت مسیح موعود آيت ولو تقول علینا بعض الاقاویل کا فیصلہ کن معیار ہے کوئی کاذب جہاں میں لاؤ لوگو کچھ نظیر میرے جیسی جس کی تائیدیں ہوئی ہوں بار بار ( حضرت مسیح موعود ) ابتداء آفرینش سے خدا کے برگزیدہ نبی آسمانی پیغام لیکر آتے رہے، وہ خدا کا نور اور اہلِ دُنیا کے ہمدرد و خیر خواہ تھے۔مگر تاریکی کے فرزندوں نے اُس نور کا انکار کیا اور اس کے بجھانے کے درپے ہو گئے۔آسمانی کتابیں اس بات پر متفق ہیں کہ خدا کے راستباز ، وفادار اور سچے رسول زمینی لوگوں کی زبان سے کا ذب، فریبی اور دجال قرار دیئے گئے۔ان کو گالیاں دی گئیں۔وہ ستائے گئے۔وطنوں سے بے وطن کئے گئے۔ان پر پتھر برسائے گئے۔الغرض نسلِ آدم کے ایک بڑے حصہ نے آدم کے بہترین فرزندوں یعنی انبیاء علیہم السلام کے ساتھ نہایت بُرا سلوک کیا۔چونکہ خدا کے پیارے اس کی خاطر مور د لعن و طعن بنائے گئے اس لئے خداوند ہمیشہ سے ان کی سپر اور ان کے دشمنوں کے لئے صاعقہ بنا رہا۔راستبازوں کے لئے اس کی غیرت بھر کی اور اس نے ان میں اور ان کے غیروں میں نمایاں امتیاز قائم کر دیا۔نشانات و معجزات کی بارشیں اغیار کے لئے قہری تجلیات اور انبیاء کے متبعین کے لئے فیوض وانوار کی کثرت ان کی صداقت پر 9