تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 134 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 134

ب اوقات باپ کے متعلق کوئی حکم یا پیشگوئی ہوتی ہے تو وہ بیٹے پر پوری ہو جاتی ہے۔چنانچہ یہ تو مشہور ہی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابو جہل کے ہاتھ میں جنت کا خوشہ دیکھا حالانکہ اس سے مراد عکرمہ ابن ابی جہل تھا۔نیز تاریخ الخمیس جلد ۲ صفحہ ۱۱۱ پر لکھا ہے۔قَالَ السُّهَيْل قَالَ أَهْلُ التَّعْبِيرِ رَأَى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ أُسَيْدَ بْنَ أَبِي الْعَيْصِ وَالِيَّا عَلَى مَكَّةَ مُسْلِمًا فَمَاتَ عَلَى الْكُفْرِ وَكَانَتْ الرُّؤْيَا لِوَلَدِهِ عِتَاب - کہ نبی کریم صلی الله علیہ وسلم نے رویا میں اسید کو مسلمان ہونے کی حالت میں مکہ کا افسر اور حاکم دیکھا اور نبی کی رؤیا وجی ہوتی ہے۔(دیکھو بخاری جلد ۱ صفحہ ۲۷ مصری ) لیکن وہ کفر کی ہی حالت میں مرگیا اور اس سے مراد اس کا بیٹا عتاب تھا۔مومن کہلانے والو! اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وحی میں اسید سے مرا دعتاب ہو سکتا ہے تو کیا وجہ ہے کہ مرزا صاحب کی وحی میں آپ سے آپ کا بیٹا مراد نہیں ہوسکتا۔هَلْ فِيْكُمْ رَجُلٌ رَشِيدٌ؟ اورٹن لیجئے ! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما یا أُوتِيتُ مَفَاتِيْحَ خَزَائِنِ الْأَرْضِ فَوُضِعَتْ فِي يَدَكَى قَالَ أَبُو هُرَيْرَةً وَقَدْ ذَهَبَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَنْتُمْ تَنْتَخِلُونَهَا - ( بخاری جلد ۲ صفحہ ۱۱۱ مصری ) کہ مجھے زمین کے خزانوں کی چابیاں دی گئیں اور میرے ہاتھوں میں رکھی گئی ہیں۔حضرت ابوہریر کا فرماتے ہیں کہ نبی کریم تو رحلت فرما گئے اب ان خزانوں کو تم (اے صحابہ کرام!) جمع کرتے ہو۔“ دیکھو نبی کریم نے اپنے ہاتھ میں خزانے دیئے جانے فرمائے تھے مگر وہ دیئے گئے صحابہ کو۔پس اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مراد حضرت عمر یا دیگر صحابہ ہو سکتے ہیں تو کوئی وجہ نہیں کہ حضرت مسیح موعود سے آپ کے موعود صاحبزادوں میں سے سب سے بڑے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد خلیفہ اسیح ایدہ اللہ بنصرہ مراد نہ ہو سکیں؟ بع کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے! گول مول الہامات کی حقیقت اب ہم بفضلہ تعالیٰ ان تمام اعتراضات کے جواب لکھ چکے ہیں جو معترض پٹیالوی نے نمبر وار فصل سوم میں کئے تھے۔ہاں اس فصل کے اخیر پر معترض نے اپنی کم فہمی کی بناء پر یہ اعتراض کیا ہے کہ :- (134)