تفہیماتِ ربانیّہ — Page 133
اگر کوئی شخص شبیہ مبارک احمد کے صلبی ہونے پر ہی اصرار کرے تو اس کا ایک جواب یہ بھی ہے کہ يَنْزِلُ مَنزَلَ الْمُبَارَكِ میں صرف اتنا ذکر ہے کہ ایک لڑکا مبارک احمد کا قائم مقام ہوگا۔یعنی جو صفات علیا مبارک احمد کے متعلق تھے اللہ تعالیٰ ان کا وارث کسی دوسرے صاحبزادے کو کر دے گا اور وہ اپنی خوبیوں کے علاوہ صاحبزادہ مبارک احمد کا بھی ہمرنگ ہو گا اور وہ وہی لڑکا ہے جس کے متعلق فرمایا ہے بشارت دی کہ اک بیٹا ہے تیرا جو ہوگا ایک دن محبوب میرا کروں گا دُور اُس ممہ سے اندھیرا دکھاؤں گا کہ اک عالم کو پھیرا ( در ثمین اردو) جواب سوم - شبیہ مبارک احمد کے متعلق ضروری تھا کہ وہ حضرت کی اپنی صلب سے نہ ہو کیونکہ یہ الہام الہی کے خلاف تھا۔صابزادہ مبارک احمد کی پیدائش پر جو الہام ہوا اس میں لکھا ہے :- انى اَسْقُطُ مِنَ اللهِ وَأصِيبُهُ - كَفى هذا (وحی ۱۳ رجون ۱۹۹ به مندرجہ الحکم ۳۰ر جون ۱۸۹۹ به والبشری جلد ۲ صفحه ۵۵) پہلے فقرہ میں مبارک احمد کہتا ہے کہ میں خدا کی طرف سے آتا ہوں اور اُسی کی طرف جاؤں گا اور دوسرے فقرہ میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اب نرینہ اولاد کافی ہوگئی ہے یعنی آئندہ کوئی لڑکا آپ کے گھر نہ ہوگا۔گویا صاف کھل گیا کہ شبیہ مبارک احمد آپ کے صلب سے نہ ہوگا بلکہ وہ آپ کا پوتا ہوگا۔اے منکرین !سنو اور گوشِ ہوش سے سنو کہ مبارک احمد کا قائم مقام اور شبیہ ۱۶ نومبر ۱۹۰۹ء کو پیدا ہونے والا مولود مسعود ہے جس کا نام صاحبزادہ ناصر احمد صاحب سلمہ اللہ ہے اور حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کا فرزندار جمند ہے۔کیا کوئی ہے جو ایمان لائے؟ ممکن ہے کہ اس جگہ تاریکی کے فرزند پکار اُٹھیں کہ وہ موعود تو مرزا صاحب کے صلب سے ہونا چاہئے تھا۔سو اول تو کہیں ایسا لکھا نہیں کہ وہ مرزا صاحب کی زندگی میں اور آپ کے نطفہ سے ہوگا۔دوم شرعا پوتا بھی بیٹے ہی کے سے حقوق رکھتا ہے حتی کہ وہ اسی حصہ میراث کا وارث ہوتا ہے جس کا بیٹا ہوتا ہے اور قرآن مجید نے اس کو الگ بیان نہیں کیا۔اسی لئے کتب الفرائض میں ہے وَلِابْنِ الْابْنِ محكُمُ الْإِبن۔یعنی پوتے کے لئے بیٹے ہی کا حکم ہے۔سومر پیشگوئیوں میں (133)