تفہیماتِ ربانیّہ — Page 132
شبیہ مبارک احمد کون ہے؟ (10) " يَنْزِلُ مَنزَلَ الْمُبَارَكِ، معترض پٹیالوی نے دسویں نمبر پر شبیہ مبارک احمد والی پیشگوئی پر اعتراض کیا ہے۔اس کے اصل الفاظ یہ ہیں :- " آپ کے لڑکا ہوا ہے۔يَنزِلُ مَنْزَلَ الْمُبَارَكِ ( میگزین ۲۱ / اکتوبر ۱۹۰۷ء) ایک خلیم لڑکے کی ہم تجھ کو خوشخبری دیتے ہیں جو بمنزلہ مبارک احمد کے ہوگا اور اس کا قائم مقام اور اس کا شبیہ ہو گا (اشتہار تبصره ۵ /نومبر ۱۹۰۷ ب ) ان الہامات کے بعد کوئی لڑکا نہ ہوا اور مرزا صاحب چل دیئے اس لئے یہ دونوں الہام بھی غلط ثابت ہوئے۔(عشرہ صفحہ ۴۲) ፡፡ جواب اول - معترض نے فقرہ آپ کے لڑکا ہوا ہے پر اعتراض کی بنیا درکھی ہے حالانکہ اس کے ساتھ ہی لکھا ہے یعنی آئندہ کسی وقت لڑکا پیدا ہوگا۔“ (اخبار بدر ۳۱ اکتوبر ۱۹۰۷ ) لیکن معترض نے نصف لے لیا اور نصف عبارت چھوڑ دی۔نیز اس کے بعد کے چند الہامات کو چھوڑ کر اُسے " يَنْزِلُ مَنزَلَ الْمُبَارَتِ“ سے ملا دیا ہے۔سو ہمارا پہلا جواب تو یہی ہے کہ آپ نے اس اعتراض میں دھوکا دیا ہے یعنی مکمل عبارت درج نہیں کی۔جواب دوم - حضرت کو اللہ تعالیٰ نے ایک لڑکے کی بشارت دی ہے لیکن ساتھ یہ نہیں فرمایا کہ وہ تیری ہی صلب سے اور تیری ہی زندگی میں ہوگا۔ہاں مطلق لفظ بشارت اس امر کا مقتضی نہیں کہ وہ بچہ آپ کے صلب سے اور آپ کی حیات میں ہی پیدا ہو۔ملاحظہ فرمایئے قرآن مجید میں حضرت سارہ کے متعلق فرمایا :- فَبَشِّرْ لَهَا بِأَسْحَقَ وَمِنْ وَرَاءِ اسْحَق يَعْقُوبَ ( ہو در کوع ۷ ) کہ ہم نے اس کو اسحاق کی بشارت دی اور اس کے بعد یعقوب کی۔اب دیکھئے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت سارہ کو یعقوب کی بشارت دی ہے حالانکہ وہ ان کا پوتا تھا جو حضرت اسحاق کی نسل میں سے ہونے والا تھا۔پس لفظ بشارت صلبی بیٹے کو مستلزم نہیں۔اور ہمارا دعوی ہے کہ حضرت مسیح موعود کے الہامات میں ایک بھی لفظ نہیں جس میں لکھا ہو کہ وہ لڑ کا آپ کی صلب سے ہی ہو گا لہذا اعتراض باطل ہے۔(132)