تفہیماتِ ربانیّہ — Page 124
باطل ہے۔غیرت خداوندی ناظرین! معترض نے جنوری ۱۹۲۷ء میں عشرہ کاملہ کا دوسرا ایڈیشن طبع کرایا جو اس وقت ہمارے زیر نظر ہے۔اور ۱۹۲۸ء میں سرزمین کا بل پر خوفناک تباہی آئی جس سے ” قریب پچاسی ہزار کے آدمی مر گئے ہماری مراد وہ محشر خیز ہنگامہ ہے جو امان اللہ خان اور بچہ سقہ کی چپقلش سے بر پا ہوا۔جس میں ہزاروں آدمی کھیت رہے۔بالآخر نادر خان سر بر مملکت پر قابض ہو ا۔حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید کا قاتل ظالم امیر اپنے بیٹے کے ہاتھوں قتل ہو ا تھا۔اور اب امان اللہ جس کے زمانہ میں ہمارے دو بھائی نہایت بے رحمی سے شہید کئے گئے نہایت ذلت سے ملک بدر ہوا۔یہی وہ عذاب ہے جس کو قرآن مجید نے يُذيقَ بَعْضَكُمْ بَأْسَ بَعْضٍ سے تعبیر فرمایا ہے۔کیا منصف مزاج ناظرین اس عظیم الشان نشان سے فائدہ اٹھا ئینگے؟ مولوی ثناء اللہ صاحب کی قادیان میں آمد کا جواب _: (۵) مولوی ثناء اللہ امرتسری کے قادیان آنے کی بابت معترض پٹیا لوی لکھتا ہے "رسالہ اعجاز احمدی صفحہ ۳۷ میں لکھا ہے کہ وہ ہرگز قادیان نہیں آئیں گئے مگر مولوی صاحب نے ۱۰ جنوری ۱۹۰۳ ء کو قادیان پہنچ کر یہ پیشگوئی غلط ثابت کر دی۔“ (عشره صفحه ۴۱) اس اعتراض کے جواب کے لئے میں سب سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اپنے الفاظ درج کرتا ہوں تا معترض پٹیالوی کی خیانت بھی ظاہر ہو جائے۔حضور لکھتے ہیں :۔واضح رہے کہ مولوی ثناء اللہ کے ذریعہ سے عنقریب تین نشان میرے ظاہر ہوں گے۔(1) قادیان میں تمام پیشگوئیوں کی پڑتال کے لئے میرے پاس ہرگز نہیں آئیں گے اور کچی پیشگوئیوں کی اپنی قلم سے تصدیق کرنا ان کے لئے موت ہوگی۔(۲) اگر اس پیج پر وہ مستعد ہوئے کہ کاذب صادق کے پہلے مرجائے تو ضرور وہ پہلے مریں گے۔(۳) اور سب سے پہلے اس اُردو مضمون اور عربی قصیدہ کے مقابلہ سے عاجز رہ کر جلد تر ان کی روسیا ہی ثابت ہو جائے گی۔“ ( اعجاز احمدی صفحہ ۳۷ نیز مولوی ثناء اللہ کا رسالہ الہامات صفحہ ۱۱۵) 124)