تفہیماتِ ربانیّہ — Page 123
پچاسی ہزار آدمی مریں گے۔“ اس الہام کو نقل کر کے معترض لکھتا ہے :- عجیب گول مول الہام ہے جو اب تک تو غلط ثابت ہوا ہے۔‘ (عشرہ صفحہ ۴۱) الجواب - حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ۱۳ مارچ ۱۹۷ء کو الہام ہوا :- ریاست کابل میں قریب پچاسی ہزار کے آدمی مریں گے۔“ ( البشری جلد ۲ صفحه ۱۲۶) اب تک غلط" کا مطلب یہ ہے کہ معترض پٹیالوی اِس ہلاکت خیز واقعہ کے لئے جلدی کرتا ہے۔قرآن مجید میں لکھا ہے وَيَسْتَعْجِلُونَكَ بِالْعَذَابِ، وَلَوْلَا أَجَلٌ مُّسَمًّى تَجَاءَهُمُ الْعَذَابُ وَلَيَأْتِيَنَّهُمْ بَغْتَةً وَهُمْ لَا يَشْعُرُونَ ( عنکبوت رکوع ۶ ) ترجمہ۔اے رسول! کفار تجھ سے عذاب کے لئے جلدی کرتے ہیں اور اگر مقررہ وقت نہ ہوتا تو کبھی کا عذاب آ گیا ہوتا۔وہ ان کے پاس اچانک آئے گا اور یہ اس کا اندازہ نہیں کر سکیں گے۔اس آیت میں جس ” جلد بازی کو کفار سے منسوب کیا گیا ہے بعینہ وہی معترض پٹیالوی میں نظر آ رہی ہے۔تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ - بنده خدا ! کیا اس کے لئے کوئی ایک دو سال کی میعاد مقررتھی جو تو اس الہام کو غلط اور محض جھوٹ“ لکھ رہا ہے۔اگر یہ طریق ہے تو کیا ایک عیسائی اور آریہ آپ کے عقیدہ کے مطابق کہہ سکتا ہے کہ قیامت کے متعلق قرآن مجید کی پیشگوئی اور الہام ابھی تک تو غلط ثابت ہوا ہے؟ یا کم از کم اگر وہ یہ کہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسیح موعود کی آمد کا الہام سنایا اور وہ اب تک غلط ثابت ہوا۔کیونکہ غیر احمدیوں کے نزدیک کوئی مسیح موعود نہیں آیا ، تو آپ اسے حق بجانب مانیں گے؟ ہر گز نہیں! کیونکہ ہر پیشگوئی کے لئے ایک وقت مقرر ہوتا ہے اور اس کے ظہور سے قبل دشمن اُسے گول مول ہی کہا کرتا ہے۔کیا وعدہ سَيُهْزَمُ الْجَمْعُ وَيُوَلُّونَ الدبر کو ظہور سے پہلے گول مول نہ سمجھا گیا ؟ پھر کیا فتح مکہ کی پیشگوئی کے لئے بار بار عین وقت کا مطالبہ نہ ہوا ؟ مگر ہمیشہ معین وقت علم الہی کی طرف منسوب کیا گیا۔نادانوں کی جلد بازی سے نہ پہلے مومن گھبرائے اور نہ اب کسی قسم کا خدشہ پیدا ہوسکتا ہے۔پس یہ اعتراض سراسر (123)