تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 115 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 115

اور ان زلزلوں میں سے ایک زلزلہ کے متعلق حسب ذیل الہام ہوئے :- (۱) تَتْبَعُهَا الرَّادِفَةُ - ترجمہ:۔اس کے پیچھے آئے گی پیچھے آنے والی۔یعنی ایک زلزلہ آیا ، اس کے بعد ایک اور آنے والا ہے۔“ (۲) پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔“ ریویو آف ریجنز بابت ماہ فروری ۱۹۰۶ : صفحه (۸۳) یعنی ایک زلزلہ موسم بہار میں آئے گا۔اپنی حقیقت کے لحاظ سے تو ہر زلزلہ زلزلة الساعة ہی ہے کیونکہ وہ اپنے اندر ایک نمونہ قیامت کا رکھتا ہے۔بنابریں حضرت کے الہام میں بعض دوسرے زلزلوں کو بھی زلزلۃ الساعۃ کہا گیا ہے مگر خصوصیت سے آخری زلزلہ ہیبت ناک اور پُر خطر ہونے والا تھا۔اس لئے اس کے متعلق خاص زور دیا گیا ہے۔اور در حقیقت جس زلزلہ کو حضرت اقدس نے ضمیمہ براہین صفحہ ۹۷ میں اپنی زندگی کے ساتھ مشروط فرمایا ہے وہ وہی زلزلہ ہے جس کے لئے موسم بہار کا وقت مقرر کیا گیا تھا۔چنانچہ حضور صفحہ ۹۷ کے فقرہ ” ضرور ہے کہ یہ حادثہ میری زندگی میں ظہور میں آجائے پر حاشیہ میں تحریر فرماتے ہیں :- ”خدا تعالیٰ کا الہام ایک یہ بھی ہے پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زلزلہ موعودہ کے وقت بہار کے دن ہوں گے۔اور جیسا کہ بعض الہامات سے سمجھا جاتا ہے غالباً وہ صبح کا وقت ہوگا۔“ (حاشیه صفحه ۹۷ ضمیمہ براہین حصہ پنجم ) مختصر یوں کہ موسم بہار والا زلزلہ حضور کی زندگی میں آنا ضروری تھا نہ کہ زلزلہ قیامت اور وہ آ گیا۔چنانچہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :۔میں نے پھر ایک پیشگوئی کی تھی کہ اس زلزله ۴ را پریل ۱۹۰۵ بر والے زلزلہ ) کے بعد بہار کے دنوں میں پھر ایک اور زلزلہ آئے گا۔اس الہامی پیشگوئی کی ایک عبارت ہی تھی۔پھر بہار آئی خدا کی بات پھر پوری ہوئی۔چنانچہ ۱۲۸ فروری ۱۹۰۶ بو کو وہ زلزلہ آیا اور کوہستانی جگہوں میں بہت سا نقصان جانوں اور مالوں کے تلف ہونے سے ہوا۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۲۲۱) (115)