تفہیماتِ ربانیّہ — Page 104
پس اگر حضرت مسیح موعود کی عمر کے متعلق قیاسات میں اختلاف ہو تو باعث تکذیب نہیں جبکہ خود مؤلف عشرہ کاملہ تسلیم کرتا ہے کہ :- " مرزا صاحب لکھتے ہیں کہ ہمارے پاس کوئی یادداشت نہیں کیونکہ اس زمانہ میں بچوں کی عمر کے لکھنے کا کوئی طریق نہ تھا۔“ ( حاشیہ عشرہ صفحہ ۳۷) اندریں صورت محتاط طریق یہی ہے کہ انسان کسی بات پرضد نہ کرے بلکہ جو بیان آسمانی شہادت اور قرائن سے درست ثابت ہوا سے تسلیم کرلے۔عمر کے متعلق حضرت مسیح موعود کا فیصلہ کن بیان جناب مولوی سید محمد عبد الواحد صاحب نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے سوال کیا تھا کہ حضرت کی عمر شریف اسوقت کس قدر ہے؟“ اس کے جواب میں حضور تحریر فرماتے ہیں :- عمر کا اصل اندازہ تو خدا تعالے کو معلوم ہے مگر جہاں تک مجھے معلوم ہے اب اس ،، وقت تک جو سن ہجری ۳۲۳ا ہے میری عمر ستر برس کے قریب ہے۔واللہ اعلم (ضمیمہ براہین احمدیہ حصہ پنجم صفحه ۱۹۳) کیا ہی ناطق قول ہے۔گویا ۱۳۲۳ھ میں ستر سال عمر ہے۔اب اس کے تین چار سال بعد حضور کا انتقال ہوتا ہے۔گویا آپ کے اندازہ کے مطابق بھی ہے سال عمر بن گئی۔لیکن اصل اندازہ خدا کے علم کے سپرد کر کے معترضین کا منہ بھی بند کر دیا۔مگر افسوس کہ پھر بھی ع مه نور میفشاند وسگ بانگ میزند عمر کے متعلق الہامی فیصلہ ناظرین کرام ! آپ نے پڑھا ہے کہ حضرت مسیح موعود نے اپنے الہامات کے ماتحت اپنی عمر کا اندازہ ۷۴ اور ۸۶ کے درمیان شائع فرمایا ہے ہمیں آپ کی معتین تاریخ ولادت معلوم نہیں۔اندازے محض تخمینہ پر مبنی ہیں لیکن آؤ دیکھیں کہ الہامی شہادت اس بارہ میں کیا ہے؟ سو یا در ہے کہ اقل عمر حضور علیہ السلام کی از روئے الہام ۷۴ برس ہے۔دوسری طرف ۱۹۰۵ بر میں حضور پر وحی اترتی ہے :- " جَاءَ وَقُتُكَ - قَرُبَ أَجَلُكَ الْمُقَدَّرُ “ (الوصیّت صفحه ۲) یعنی تیر وقت آچکا۔مقد راجل قریب آگئی۔" (104)