تفہیماتِ ربانیّہ — Page 105
معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے الہامی وعدہ کے مطابق عمر حاصل کی ہے اسی پر اللہ تعالیٰ کے الفاظ ” جاء وقتك دلالت کر رہے ہیں۔گویا جس طرح الہام نے عمر کی میعاد بتائی تھی ویسے ہی الہام سے اس میعاد کا پورا ہو جانا ظاہر ہو گیا وَتَمْتُ كَلِمَةُ رَبِّكَ صِدْقًا وَّعَدْلًا۔اس اعتراض کے ضمنی اعتراضات ہم نے اصل اعتراض کا مفصل جواب دیدیا ہے، ہاں چند دیگر جواب طلب امور جو معترض نے ضمنا ذکر کئے ہیں حسب ذیل ہیں۔امراول - معترض کہتا ہے کہ مرزا صاحب نے لکھا ہے کہ میں ایک روز کشفی حالت میں ایک بزرگ صاحب کی قبر پر دعائیں مانگ رہا تھا۔صاحب قبر سے پندرہ سال زیادتی عمر کی دعا پر آمین کہلوانی چاہی۔اُس نے نہ کہی۔آخر نہایت اصرار کے بعد انقباض کے ساتھ اُس نے آمین کہی۔اس سارے واقعہ کے بعد معترض نے حضرت اقدس کے حسب ذیل الفاظ لکھے ہیں :- دعا مانگی کہ میری عمر پندرہ سال اور بڑھ جائے تب اُس بزرگ نے آمین کہی۔اب میری عمر پچانوے سال ہے۔“ (عشرہ صفحہ ۳۷ حاشیہ بحوالہ الحکم ۲۴ / ۱۷ دسمبر ۱۹۰۳ء) الجواب۔(۱)۔یہ کشفی واقعہ ہے اور کشف تعبیر طلب ہوتا ہے۔حضرت یوسف علیہ السلام نے کشف میں دیکھا کہ چاند، سورج اور گیارہ ستارے مجھے سجدہ کر رہے ہیں (سورہ یوسف رکوع ۱ ) کیا اسے ظاہر پر محمول کرو گے؟ اگر نہیں تو مندرجہ بالا کشف کو کیوں ظاہر پر حمل کرتے ہو؟ (۲) اگر اس کشف کا وہی مطلب ہوتا جو تم بیان کر رہے ہو تو چاہئے تھا کہ حضرت مرزا صاحب بھی کم از کم ایک دفعہ ہی لکھتے کہ میں پچانوے سال تک زندہ رہوں گا۔حالانکہ تم خود لکھ چکے ہو کہ :- "" مرزا صاحب کی عمر بقول اُن کے کم از کم ۷۴ سال اور زیادہ سے زیادہ ۶ ۸ سال ہونی چاہئے تھی۔(عشرہ صفحہ ۳۶) پس تمہارا یہ اعتراض باطل ہے۔(105)