تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 85 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 85

فقرے مطلق تعلق پر دلالت کرنے کے لئے آتے ہیں۔چنانچہ آنحضرت کی حدیث هُم مِنِی وَأَنَا مِنْهُم کی تشریح میں شراح لکھتے ہیں :- قَوْلُهُ هُمْ مِنِّى وَآنَا مِنْهُمْ كَلِمَةٌ مِنْ هِيَ مِنَ الْاِتِّصَالِيَّةِ أَنْ هُمُ مُتَّصِلُونَ ہی۔“ ( حاشیہ بخاری جلد ۲ صفحہ ۶۲۹ مطبع باشی میرٹھ) کہ اس سے ان لوگوں کا تعلق مراد ہے۔اگر اس قسم کا فقرہ ابوت اور بنتوت کی دلیل بن سکتا ہے تو پھر آیت وَرُوحُ مِنْهُ (النساء رکوع (۲۳) سے نصاریٰ کا ابنیت مسیح پر استدلال کرنا درست ہوگا معاذ اللہ۔پس یہ معنی سراسر باطل ہیں۔بناء بریں حضرت کے الہام ” آنا منك “ کا ترجمہ یہ ہوگا کہ میرا تیرے ساتھ تعلق ہے کیونکہ تو میر ا رسول اور نبی ہے۔کیسی صاف بات ہے سے آنکھ کے اندھوں کو حائل ہو گئے سو سو حجاب ورنہ قبلہ تھا تیرا رُخ کافرو دیندار کا اَنْتَ مِنِّي وَأَنَا مِنْكَ كا دوسرا جواب اگر خدانخواستہ انتَ مِنِی وَاَنَا مِنْكَ “ سے کوئی ایسا دعویٰ مستنبط ہوتا تھا تو چاہئے تھا کہ ملہم یہ دعویٰ کرتا لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام تو فرماتے ہیں :- اس الہام ( انتَ مِنِى وَأَنَا مِنْكَ ) کا پہلا حصہ تو بالکل صاف ہے کہ تو جو ظاہر ہوا یہ میرے فضل اور کرم کا نتیجہ ہے۔اور جس انسان کو خدا تعالی مامور کر کے دنیا میں بھیجتا ہے اس کو اپنی مرضی اور حکم سے مامور کر کے بھیجتا ہے جیسے حکام کا بھی یہ دستور اور قاعدہ ہے۔اب اس الہام میں جو خدا تعالیٰ فرماتا ہے اَنَا مِنك اس کا یہ مطلب اور منشاء ہے کہ میری توحید اور میرا جلال اور میری عزت کا ظہور تیرے ذریعہ سے ہوگا۔۔۔ایک وقت ہوتا ہے کہ خدا اُس وقت کم ہوا سمجھا جاتا ہے۔یہ وہ وقت ہوتا ہے جب اُس کی ہستی اور توحید اور صفات پر ایمان نہیں رہتا اور عملی رنگ میں دُنیا اور پر وہر یہ ہو جاتی ہے۔اُس وقت جس شخص کو خدا اپنی تجلیات کا مظہر قرار دیتا ہے وہ اس کی ہستی اور توحید اور جلال کے اظہار کا باعث ٹھہرتا ہے اور وہ آنا مِنكَ کا مصداق ہوتا ہے۔(اخبار الحکم جلد ۶ نمبر ۴۰) 85