تفہیماتِ ربانیّہ — Page 81
بنائی جاتی ہے۔“ (حقیقۃ الوحی صفحہ ۹۹) یہ نیا آسمان اور نئی زمین ہر نبی کے وقت میں بنتی رہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ اناجیل میں پطرس کے حسب ذیل الفاظ آج تک مرقوم ہیں کہ : _: اس کے وعدے کے موافق ہم نئے آسمان اور نئی زمین کا انتظار کرتے ہیں جن میں راستبازی بسی رہے گی۔“ (۲- پطرس ۳/۱۳) اور قرآن مجید نے بھی آیت ظهر الفساد فی البر والبحر میں اسی انقلاب کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔یعنی رسول پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں عظیم الشان طور پر نیا آسمان اور نئی زمین بنائی جائے گی۔حضرت مسیح موعود اُس وقت مبعوث ہوئے جب دُنیا میں تاریکی کا غلبہ تھا اور مسلمان جو مذہب کی دنیا میں اکیلے ہی آسمان وزمین تھے بگڑ چکے تھے۔اخبار زمیندار اقبال ماضی کی شان و شوکت کا تذکرہ کرنے کے بعد لکھتا ہے :- آسمان نے وہ بساط الٹ دی، مسلمانوں کا اقبال ادبار سے بدل گیا، ان کی وسیع و عریض سلطنت کے حصے بخرے ہو گئے، ان سے علم چھین لیا گیا، ان سے وہ خصائص سلب ہو گئے جن کی وجہ سے مشرق و مغرب میں ان کی دھاک تھی۔“ ( زمیندار ۱/۴ پریل (۱۳۰) لہذا اب ضرورت ہوئی کہ نیا آسمان اور نئی زمین پیدا کی جاوے۔اسی محاورہ کو استعمال کرتے ہوئے شبلی کہتے ہیں ے میں چرخ کی اب نئی ادائیں چلنے لگیں اور ہی ہوائیں چھیڑے جو گئے نئے فسانے نغمہ نہ وہ رہا ، نہ وہ ترانے چھونکا ہے فلک نے اور افسوں اب رنگ زمانہ ہے دگر گوں سیارے ہیں اب نئی چمک کے وہ ٹھاٹھ بدل گئے فلک کے اب صورت ملک و دیں نبی ہے افلاک نئے ، زمین نئی ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام تحریر فرماتے ہیں :- (مثنوی صبح امید صفحه (۵) (الف) '' ایک دفعہ کشفی رنگ میں میں نے دیکھا کہ میں نے نئی زمین اور نیا آسمان پیدا کیا 81