تفہیماتِ ربانیّہ — Page 80
کوئی بیوی نہیں۔اور وہ وہی بے مثل ہے جس کا کوئی ثانی نہیں اور جس کی طرح کوئی فرد کسی خاص صفت سے مخصوص نہیں اور جس کا کوئی ہمتا نہیں ، جس کا کوئی ہم صفات نہیں الخ۔“ ( الوصیت صفحہ ۱۰) کیا کوئی سعید الفطرت اس تحریر کے راقم کو مدعی الوہیت قرار دے سکتا ہے؟ ہر گز نہیں۔اس عبارت کا ایک ایک حرف اس کی فنافی اللہ اور بقاء باللہ پر دلیل ہے۔پس اے سوچنے والو! سوچو کہ یہ بہتان طرازی کیوں ہے؟ کیا صرف اس لئے نہیں کہ دنیا کے فرزندوں کو روشنی سے روکا جائے اور وہ نور ہدایت سے منور ہونے نہ پائیں؟ یاد رکھو کہ تمہاری سب کوششیں اکارت جائیں گی اور خدا اپنے فرستادہ کی قبولیت کو دنیا کے کونے کونے میں پھیلا دے گا۔کون ہے جو خدا کے ارادہ کو روک سکے؟ نئی زمین اور نیا آسمان محولہ بالا کشف کے ضمن میں مخالفین کہا کرتے ہیں کہ حضرت مرزا صاحب نے زمین و آسان کے خالق ہونے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔اس کا ایک جواب تو یہی ہے کہ یہ سب کشفی ماجرا ہے اور عالم رؤیا میں اس قسم کے روحانی افعال کا صدور ممتنع نہیں جیسا کہ اوپر کے حوالجات سے واضح ہو چکا ہے۔لیکن مزید وضاحت کے لئے اس ضمنی اعتراض کے دوسرے پہلوؤں پر بھی روشنی ڈالی جاتی ہے۔یادر ہے کہ یہ مادی زمین و آسمان پہلے سے پیدا شدہ تھے۔نہ ان کے پیدا کرنے کا دعویٰ ہے اور نہ ہی یہ ممکن، کیونکہ تحصیل حاصل محال ہے۔خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام اسی کتاب آئینہ کمالات اسلام میں لکھتے ہیں :- وَإِنِّي أَعْتَقِدُ مِنْ صَمِيمِ قَلْبِى اَنَّ لِلْعَالَمِ صَانِعًا قَدِيمًا وَاحِدًا قَادِرًا كَرِيمًا مُقْتَدِرًا عَلَى كُلِّ مَا ظَهَرَ وَاخْتَفى۔“ ( صفحہ ۳۸۴) ترجمہ۔میں یقین دل سے اعتقاد رکھتا ہوں کہ اس جہان ( آسمان و زمین اور کائنات ) کا ایک قدیم ، قادر اور کریم خدا خالق ہے جو ہر ظاہر و خفی پر اقتدار رکھتا ہے۔“ اس حقیقت کے باوجود انبیاء کے طریق پر ایک قسم کے زمین و آسمان پیدا کرنے کا آپ کو دعوی تھا اور بے شک آپ نے وہ پیدا کر دیا۔اور وہ زمین و آسمان روحانی تھے۔حضرت فرماتے ہیں :- ہر ایک عظیم الشان مصلح کے وقت میں روحانی طور پر نیا آسمان اور نئی زمین 80