تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 79 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 79

ایک ایسا پر تو پڑتا ہے کہ اس کے آثار اس میں ظہور کرنے لگتے ہیں۔تب اس کا تصرف عالم میں ہونے لگتا ہے اور وہ شخص فنافی اللہ اور باقی باللہ ہوجاتا ہے ہرگز نمیرد آنکه دلش زنده شد به عشق ثبت است بر جریده عالم دوام ما پس یہ انسان کا کمال انتہائی ہے۔سو یہ مرتبہ خاص انبیاء علیہم السلام کو اور ان سے کچھ اُتر کر اُن کے متبعین اولیاء کرام کو نصیب ہوتا ہے۔" ( مقدمه تفسیر حقانی صفحه ۱۲) یہ پانچوں اقتباسات اپنے مطلب کے لحاظ سے نہایت نمایاں ہیں تشریح کی ضرورت نہیں۔اے کاش منشی محمد یعقوب صاحب اور ان کے رفقاء حضرت سید اسمعیل صاحب کی نصیحت پر کان دھرتے اور ایک نہایت لطیف دلیل پاکبازی کو ٹھکرانہ دیتے یا کم از کم اعتراض نہ کرتے۔مگر سچ یہی ہے 8 قدر زر زرگر بداند یا بداند جوهری حضرت مسیح موعود کا کشف گویا صوفیاء کی زبان اور ان کی اصطلاح میں حضور کی صداقت کا زبر دست ثبوت ہے نہ قابل اعتراض۔جواب پنجم - اعتراض بال کے متذکرۃ الصدر جوابات کے بعد اب ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ایک تحریر پیش کرتے ہیں جو حضور نے توحید کے عقیدہ کی تشریح میں رقم فرمائی ہے۔لکھتے ہیں :۔" اے سُننے والو سنو ! کہ خدا تم سے کیا چاہتا ہے۔بس یہی کہ تم اُسی کے ہو جاؤ۔اس کے ساتھ کسی کو بھی شریک نہ کرو۔نہ آسمان میں، نہ زمین میں۔ہمارا خدا وہ خدا ہے جو اب بھی زندہ ہے جیسا کہ پہلے زندہ تھا۔اور اب بھی وہ بولتا ہے جیسا کہ وہ پہلے بولتا تھا۔اور اب بھی وہ سنتا ہے جیسا کہ پہلے سنتا تھا۔یہ خیال خام ہے کہ اس زمانہ میں وہ سنتا تو ہے مگر بولتا نہیں۔بلکہ وہ سنتا ہے اور بولتا بھی ہے۔اس کی تمام صفات ازلی ابدی ہیں کوئی صفت بھی معطل نہیں۔اور نہ کبھی ہوگی۔وہ وہی واحد لاشریک ہے جس کا کوئی بیٹا نہیں اور جس کی 79