تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 78 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 78

وز نہار در میں معاملہ تعجب نہ نمائی و با نکار پیش نہ آئی زیرا که چون از ناروادی مقدس نداء إنّي أَنَا اللهُ رَبُّ الْعَالَمِينَ سر برزد، اگر از نفس کامله که اشرف موجودات است و نمونه حضرت ذات است، آواز آنا الحق برآید محل تعجب نیست ( کتاب صراط مستقیم صفحه ۱۳ - ۱۴) (ج) حضرت سید عبد القادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :- " قَالَ اللهُ تَعَالَى فِى بَعْضِ كُتُبِهِ يَا ابْنَ آدَمَ أَنَا اللهُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنَا أَقُولُ لِلشَّيْهِ كُنْ فَيَكُونَ أَطِعْنِي أَجْعَلُكَ تَقُولُ لِلشَّيْيَ كُنْ فَيَكُونُ وَقَدْ فَعَلَ ذَالِكَ بِكَثِيرٍ مِّنْ أَنْبِيَاءِ وَأَوْلِيَاءِ وَخَوَاصِهِ مِنْ بَنِي أدم - (فتوح الغیب مقاله ۱۶ صفحه ۱۰۰) ترجمہ - اللہ تعالٰی نے بعض کتابوں میں فرمایا ہے کہ اے آدم زاد ! میں خدائے واحد ہوں اور گن کہنے سے ہر چیز پیدا کر لیتا ہوں۔تو میری اطاعت کر۔میں تجھے بھی کن فیکون کے اختیارات دے دوں گا۔اور اللہ تعالیٰ نے یہ سلوک بہت سے انبیاء، اولیاء اور اپنے خاص بندوں سے کیا بھی ہے۔“ (5) حضرت فرید الدین صاحب عطار فرماتے ہیں :- "جو شخص حق میں محو ہو جاتا ہے وہ حقیقت میں سرتا پاحق ہی ہوتا ہے اور اگر وہ آدمی خود نہ رہے اور سب حق کو ہی دیکھے تو یہ عجب نہیں ہوتا۔“ (تذکرة الاولياء صفحه ۱۴۹ تذکره بایزید بسطامی) (3) مولوی عبد الحق صاحب محدث دہلوی لکھتے ہیں :۔’عارف کے ہاتھ خدا کے ہاتھ ، اور اس کی زبان خدا کی زبان، اس کی آنکھ خدا کی آنکھ ہو جاتی ہے ( اور خدا تعالی در حقیقت ان اعضاء سے پاک ہے ) چنانچہ اس حدیث میں فَكُنْتُ سَمْعَهُ الَّذِي يَسْمَعُ بِه اى طرف اشارہ ہے اور اسی مرتبہ میں وحدت وجود کا راز کھلتا ہے۔گرچہ خدائے پاک اپنی ذات اور صفات میں جمیع کا ئنات سے الگ اور ممتاز ہے، کوئی ممکن واجب نہیں ہوسکتا۔لیکن عارف پر وجوب کا 78