تفہیماتِ ربانیّہ — Page 788
ختم نبیت کے سلسلہ میں پرویز صاحب کے شبہات کا ازالہ مولوی عبد اللہ صاحب چکڑالوی نے اہلِ قرآن کی تحریک جاری کی تھی۔جناب غلام احمد صاحب پرویز لکھتے ہیں ”ہم روایات کو دینی حجت تسلیم نہیں کرتے ، دین کا مرکز فقط قرآن ہے۔“ ( معارف القرآن صفحه ۸۰۷) _ خوارج کے نعرہ کی طرح بات تو بڑی خوشنما ہے مگر تجزیہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ قرآن سے ان کی مراد وہ عقلیات اور اختراعات ہیں جو پرویز صاحب یا ان کے کسی اور انشا پرداز کو سوجھیں۔پرویز صاحب نے معارف القرآن نامی کتاب میں ختم نبوت کا بھی ایک باب باندھا ہے جس میں جماعت احمدیہ کے عقیدہ پر عام ”مولویانہ انداز میں جرح کی ہے۔پرویز صاحب کی معارف القرآن کے خاص نقاط پر ذیل میں اعتراض و جواب کے رنگ میں تبصرہ کیا جاتا ہے۔پ سے مراد پرویز صاحب ہیں اور “ سے مراد خاکسار ابو العطا ء ہے۔(۱) پ ” ہمارے مولوی صاحبان پچاس برس سے قادیانیوں کے ساتھ مناظرے، مباحثے ، مجادلے مباہلے کرتے چلے آرہے ہیں لیکن بھنور میں پھنسی ہوئی لکڑی کی طرح معاملہ وہیں کا وہیں ہے اس لئے کہ یہ مولوی صاحبان خود ایک آنے والے کے انتظار میں ہیں۔“ (صفحہ ۸۰۶) ) - یہ غلط ہے کہ معاملہ وہیں کا وہیں ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں انسانوں کے لئے تو معاملہ طے ہو چکا ہے اور بہتوں کے لئے طے ہونے کے قریب ہے۔تبھی تو جماعت احمدیہ ترقی کر رہی ہے معلوم ہوتا ہے آپ نے آنے والے کے نظریہ سے اسی لئے انکار کر دیا ہے کہ مولویوں کی طرح آپ بھی پھنس نہ جائیں ورنہ اُمت کا اجماعی عقیدہ تو واضح ہے۔(۲) پ " قرآن کی رو سے یہ بنیاد ہی باطل ہے کہ ایک شخص خدا کا نبی یا رسول ہو اور وہ کتاب نہ لائے۔“ (صفحہ ۸۰۷) تشریعی اور غیر تشریعی کی تفریق یکسر غیر قرآنی ہے۔ہر نبی خدا کا پیغام لاتا ہے جو اس کی شریعت ہوتی تھی۔( حاشیہ صفحہ ۸۰۸) ر یہی وہ نقطہ ہے جس پر پرویز صاحب عام علماء سے اختلاف کرتے ہیں۔پرویز صاحب کے نزدیک ہر نبی شریعت اور کتاب لاتا ہے مگر ان کا یہ دعویٰ قرآن مجید کے سراسر خلاف ہے۔(788)