تفہیماتِ ربانیّہ — Page 749
کی نسبت میرا ایمان ہے۔“ کرامات الصادقین صفحه ۲۵ مطبوعه ۱۸۹۴ء) (۸) "مجھ کو خدا کی عزت و جلال کی قسم کہ میں مسلمان ہوں اور ایمان رکھتا ہوں اللہ تعالیٰ پر اور اس کی کتابوں پر اور تمام رسولوں اور تمام فرشتوں اور مرنے کے بعد زندہ کئے جانے پر اور میں ایمان رکھتا ہوں اس پر کہ ہمارے رسول حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم تمام رسولوں سے افضل اور خاتم النبیین ہیں۔(حمامة البشری صفحه ۸ مطبوعه ۱۸۹۴ء) (9) در و دو سلام تمام رسولوں سے بہتر اور تمام برگزیدوں سے افضل محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر کہ خاتم الانبیاء اور شفیع المذنبین اور تمام اولین و آخرین کے سردار ہیں۔اور آپ کی آل پر کہ طاہر ومطہر ہیں۔اور آپ کے اصحاب پر کہ حق کا نشان اور اللہ تعالیٰ کی حجت ہیں اہلِ جہان کے لئے۔“ (انجام آتھم صفحہ ۷۳ مطبوعہ (۱۸۹۶ء) (۱۰) اگر دل سخت نہیں ہو گئے تو اس قدر دلیری کیوں ہے کہ خواہ مخواہ ایسے شخص کو کا فر بنایا جاتا ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حقیقی معنی کی رو سے خاتم الانبیاء سمجھتا ہے اور قرآن کو خاتم الکتب تسلیم کرتا ہے۔تمام نبیوں پر ایمان لاتا ہے اور اہلِ قبلہ ہے۔اور شریعت کے حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھتا ہے۔“ (سراج منیر صفحه ۴ مطبوعه ۱۸۹۷ء) (۱۱) ”ہمارا ایمان ہے کہ ہمارے سید و مولا حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم خاتم الانبیاء ہیں۔اور ہم فرشتوں اور معجزات اور تمام عقائد اہلسنت کے قائل ہیں۔“ ) کتاب البریه حاشیه صفحه ۸۳ مطبوعه ۱۸۹۸ء) (۱۲) قرآن شریف میں خدا تعالیٰ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نام خاتم النبیین رکھ کر اور حدیث میں خود آنحضرت نے لا نبی بعدی فرما کر اس لنتيين امر کا فیصلہ کر دیا تھا کہ کوئی نبی نبوت کے حقیقی معنوں کی رُو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نہیں آسکتا۔(کتاب البریہ حاشیہ صفحہ ۱۸۵) (749)