تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 711 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 711

ج آیت کے متعلق تو آنحضرت نے بھی فیصلہ فرما دیا کہ اس جگہ بہر حال توئی بمعنی قبض روح ہے۔قیامت کے دن آنحضرت اپنے بعض صحابہ کو دوزخ کی طرف جاتے دیکھ کر کہیں گے کہ یہ تو میرے صحابہ ہیں تو جواب ملے گا کہ تجھے کیا معلوم کہ انہوں نے تیرے بعد کیا کیا؟ آپ فرماتے ہیں فَأَقُولُ كَمَا قَالَ الْعَبْدُ الصَّالِحُ وَكُنتُ عَلَيْهِمْ شَهِيدًا مَّا دُمْتُ فِيْهِمْ فَلَمَّا تَوَفَّيْتَنِي كُنتَ اَنْتَ الرَّقِيبَ عَلَيْهِمْ ( بخاری کتاب التفسیر جلد ۳ صفحہ ۷۶ مطبوعہ مصر) کہ تب میں اسی معنی میں اپنی توفی کا اقرار کروں گا جس معنی میں حضرت عیسی نے کیا ہے۔گویا حضرت عیسی کی توفی نبی کریم کی توفی کے ہم معنی ہے اور وہ موت ہے۔پس حضرت عیسی کی توفی کے معنی بھی موت ہی ہیں۔لہذا ثابت ہوا کہ آپ فوت ہو گئے ہیں اور قرآن مجید آپ کی وفات پر شاہد ہے مارتا ہے اس کو فرقاں سر بسر : اس کے مرجانے کی دیتا ہے خبر آج قریباً چالیس برس ہوتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود نے توئی کے متعلق حسب ذیل اشتہار دے رکھا ہے کہ :- اگر کوئی شخص قرآن کریم سے یا کسی حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ، یا اشعار وقصائد لنظم ونشر قدیم وجدید عرب سے، یہ ثبوت پیش کرے کہ کسی جگہ توئی کا لفظ خدا تعالیٰ کا فعل ہونے کی حالت میں ، جو ذوی الروح کی نسبت استعمال کیا گیا ہو وہ بجز قبض روح اور وفات دینے کے کسی اور معنی پر بھی اطلاق پا گیا ہے یعنی قبض جسم کے معنوں میں بھی مستعمل ہوا ہے تو میں اللہ جل شانہ کی قسم کھا کر اقرار صحیح شرعی کرتا ہوں کہ ایسے شخص کو اپنا کوئی حصہ ملکیت کا فروخت کر کے مبلغ ہزار روپیہ نقد دوں گا اور آئندہ اس کی کمالات حدیث دانی اور قرآن دانی کا اقرار کرلوں گا۔“ 1+++ (ازالہ اوہام صفحه ۳۷۵ بار دوم ) مگر کسی نے آج تک کوئی حوالہ نہیں دکھایا۔یہ چین ہمیشہ تک قائم ہے۔اگر کسی میں ہمت ہے سلہ اب طبع ثانی کے وقت اس چیلنج پر قریباً پون صدی بیت گئی ہے مگر کوئی شخص اسے منظور نہیں کر سکا۔(مؤلف) (711