تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 66 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 66

کہ ہم نے ہر زندہ چیز کو اپنے پانی سے بنایا ہے۔کیا ہر چیز (معاذ اللہ ) خدا کے نطفہ سے پیدا ہوئی ہے؟ الماء خدا کا ہی پانی ہے جو مخلوقات کو بنانے والا ہے۔نیز حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ کا قول ہے فَتِلْكَ أُمُكُمْ يَا بَنِى مَاءِ السَّمَاءِ“ کہ اے ماء السماء کے بیٹو! یعنی اے اہل عرب ! یہی حضرت ہاجرہ تمہاری والدہ ہیں ) صحیح مسلم جلد ۲ صفحه ۳۰۸ باب فضائل ابراھیم ) اس حدیث میں تمام اہلِ عرب کو ماء السماء کے بیٹے کہا گیا ہے۔اب سوال یہ ہے کہ کیا سب عرب کے باشندے آسمان کے نطفہ سے پیدا ہوئے تھے؟ اور کیا آسمان کا بھی کوئی نطفہ ہوتا ہے؟ لازما ماننا پڑے گا کہ یہ معنی غلط ہیں۔پس اسی طرح انت من ماء نا میں اللہ تعالیٰ کا نطفہ قرار دینا بھی باطل اور خلاف تفسیر لهم و عربی زبان ہے۔(۳) مصنف نے ماء نا“ کے معنے تو خدا کا نطفہ بنا لئے مگر ” من فشل “ پر غور نہ کیا کہ پھر اس کے کیا معنی ہوں گے۔کیا بزدلی بھی کوئی ایسی چیز ہے جس سے انسان پیدا کئے جاتے ہیں؟ وہ اس امر پر غور تو تب کرتے جب انہیں حقیقت کی جستجو ہوتی۔عربی زبان میں بطور مبالغہ لفظ میں استعمال ہوتا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ سَأُورِيُكُمْ أنتِى فَلَا تَسْتَعْجِلُونِ (الانبیاء رکوع ۳) انسان جلد بازی سے پیدا کیا گیا ہے۔یعنی انسان بہت جلد باز ہے۔چنانچہ لغت کی کتاب مجمع انجار میں بھی لکھا ہے خُلِقَ الْإِنْسَانُ مِن عَجَلٍ : ای بولغ فی صفته به (جلد ۲ صفحه ۳۵۱) علامہ جلال الدین السیوطی اسی آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں :- آئ إِنَّهُ لِكَثْرَةِ عَجَلِهِ فِي أَحْوَالِهِ كَأَنَّهُ خُلِقَ مِنْهُ۔“ پھر اس کے حاشیہ پر لکھا ہے :- "إنَّ ذَالِكَ عَلَى الْمُبَالَغَةِ جُعِلَتْ ذَاتُ الْإِنْسَانِ كَأَنَّهَا خُلِقَتْ مِنْ نَّفْسِ الْعَجَلَةِ دَلَالَةً عَلَى شِدَّةٍ اِتِّصَافِ الْإِنْسَانِ بِهَا وَإِنَّهَا مَا دَتْهُ الَّتِي أُخِذَ مِنْهَا“ (جلالین مجتبائی صفحہ ۲۷۰) گویا ” من عجل “ کے معنی نہایت جلد باز ہیں اسی طرح ” من فشل “ کے معنی ہونگے نہایت بُزدل اور ضعیف۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا من ماء نا ہونا یہ معنی رکھتا ہے کہ حضور اس زمانہ کی پیاس اور مردنی دُور کرنے کے لئے خدا تعالیٰ کی طرف سے آب حیات کا حکم رکھتے ہیں۔چنانچہ حضور نے خود فرمایا ہے a 99 66