تفہیماتِ ربانیّہ — Page 680
یادر ہے کہ یہ ایڈیٹر ان اخبار کا مقولہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نقل کیا ہے اور اس وقت ریل تیار بھی ہورہی تھی اس لئے اس کی بناء پر حضرت پر کوئی اعتراض نہیں ہوسکتا۔ہاں خدا تعالیٰ نے ریل کے التواء تک موٹریں جاری کر دی ہیں۔اِنَّ فِي ذَالِكَ لَعِبْرَةً لِّمَنُ كَانَ لَهُ قَلْبُ أَوْ الْقَى السَّمْعَ وَهُوَ شَهِيدٌ - (۱۳) مسیح موعود اور حج مولوی ثناء اللہ صاحب نے ازالہ اوہام اور ایام اصلح کی عبارتیں نقل کرنے کے بعد اپنا اعتراض بایں الفاظ درج کیا ہے :- صحیح مسلم میں حدیث ہے کہ مسیح موعود حج کرے گا۔مرزا صاحب اس کو تسلیم کرتے ہیں۔مرزا صاحب نے حج نہیں کیا حالانکہ مسیح موعود کو حج کرنا لازمی ہے جیسا کہ ان کو خود تسلیم ہے۔“ ( تعلیمات صفحہ ۲۱) الجواب۔حضرت مسیح موعود کی عبارتیں بتا رہی ہیں کہ مسیح موعود کا حج کرنا ایک کشفی واقعہ تھا۔چنانچہ ایام اصلح کی عبارت نہایت واضح ہے۔ازالہ اوہام کی عبارت میں بھی طواف کعبہ کور و یا بتایا گیا ہے۔ازالہ اوہام میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود مسلم شریف اور بخاری شریف کی حدیث نقل کر کے لکھتے ہیں :- اس حدیث میں جو متفق علیہ ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ میں نے مسیح ابن مریم کو خانہ کعبہ کا طواف کرتے دیکھا۔اس بیان سے یہ لازم آتا ہے که مسیح ابن مریم اور مسیح دجال کا مدعا و مقصد ایک ہی ہو اور وہ دونوں صراط مستقیم پر چلنے والے اور اسلام کے بچے تابع ہوں۔حالانکہ دوسری حدیثوں سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ دجال خدائی کا دعویٰ کرے گا۔پھر اس کو خانہ کعبہ کے طواف سے کیا کام ہے؟ اس کا علماء نے یہ جواب دیا ہے کہ ایسے الفاظ و کلمات کو ظاہر پر حمل کرنا بڑی غلطی ہے۔یہ تو در حقیقت مکاشفات اور خوابوں کے پیرایہ میں بیانات ہیں جن کی تعبیر و تاویل کرنی چاہئے جیسا کہ عام طور پر خوابوں کی تعبیر کی جاتی ہے۔سواس کی تعبیر (680)