تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 667 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 667

(۵) نبی کے وجود سے بدشگونی لینے کا وطیرہ معترض پٹیالوی نے اپنی کتاب میں مختلف مقامات پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وجودِ باجود کو منحوس قرار دیا ہے۔اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ حضرت موسی کی بعثت پر بنی اسرائیل نے کہا اوذینَا مِنْ قَبْلِ أَنْ تَأْتِيَنَا وَمِن بَعْدِ مَا جنتنا (اعراف رکوع (۱۵) کہ تیرے آنے سے پہلے بھی ہم پر مشکلات تھیں اور تیرے بعد بھی وہی حال ہے۔اہلِ انطاکیہ نے مرسلین کے پیغام پر جواب دیا تھا اِنَّا تَطَيَّرْنَا بِكُمْ لَبِنْ لَّمْ تنتَهُوا لترْجُمَنَّكُمْ وَلَيَمَسَّنَّكُمْ مِنَا عَذَاب الیم (ئیس رکوع ۲) کہ ہم تو تمہارے وجود کو نہایت منحوس خیال کرتے ہیں۔اگر تم اس دعویٰ سے باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کریں گے اور سخت دُکھ دیں گے۔قریباً ہر صادق کے متعلق قوم نے اسی طرح بدشگونی لی ہے۔سید نا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق بھی معترض پٹیالوی کا یہ رویہ انوکھا نہیں ہے۔پس اس اعتراض کا جو جواب مرسلین انطاکیہ نے دیا تھا وہی ہم دیتے ہیں کہ تمہاری یہ بدحالی اور تباہی خود تمہارے اپنے اعمال کے باعث ہے طَابِرُ كُمْ مَّعَكُمْ آبِن ذُكِّرْتُمْ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمُ مسْرِفُونَ (يس رکوع ۲) میں سمجھتا ہوں کہ اس اعتراض میں منکرینِ انبیاء ایک حد تک معذور بھی ہوتے ہیں کیونکہ نبی کی بعثت کے بعد حسب آیت وَمَا كُنَّا مُعَذِّبِينَ حَتَّى نَبْعَثَ رَسُولًا (بنی اسرائیل رکوع ۲ ) عذابوں کا آنا ضروری ہے اور جب تک دنیار جوع نہ کرے یہ سلسلہ جاری رہتا ہے۔اس لئے نادان اپنی شامت اعمال کو نبی کے سر تھوپ دیتے ہیں حالانکہ وہ تو خدا تعالیٰ کی طرف سے اُن کے علاج کے لئے آتے ہیں۔حضرت نے خوب فرمایا ہے ے صدق سے میری طرف آؤ اسی میں خیر ہے ہیں درندے ہر طرف میں عافیت کا ہوں حصار نیز نبیوں کو ایک جماعت بنانی ہوتی ہے، نادان اس کو لوگوں میں تفرقہ اندازی کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔حالانکہ در حقیقت وہ مصلحین کی ایک جماعت تیار کرتے ہیں اور ماہر ڈاکٹر کی طرح اُن لوگوں کو جو گندے عضو سے مشابہ ہوتے ہیں کاٹ دیتے ہیں۔آنحضرت (667)