تفہیماتِ ربانیّہ — Page 668
صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی کفار مکہ نے یہی الزام رکھا تھا کہ اس کے پاس جادو ہے جس کے ذریعہ سے یہ باپ بیٹے ، بھائی بھائی ، اور میاں بیوی تک میں تفرقہ اندازی کر رہا ہے۔(النبراس حاشیہ صفحہ ۴۳۷) یہی اعتراض آج غیر احمدی سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر کرتے ہیں۔ہر دو جگہ یہ اعتراض غلط ہے۔(1) مدعی نبوت کے ساتھ چند اہل علم معترض پٹیالوی حضرت مولانا نورالدین اعظم رضی اللہ عنہ کا ذکر کرتا ہو الکھتا ہے کہ کاذب مدعیان کو ہمیشہ ہی چند اہلِ علم اپنے ساتھ ملانے پڑتے ہیں۔الجواب۔اوّل تو یہ اعتراض بعینہ وہی ہے جو نادان عیسائی اور آر یہ حضرت صدیق اکبر کی رفاقت نبوی پر کیا کرتے ہیں۔دوسرے میں کہتا ہوں کہ معترض نے اس صورتِ حال کو کاذبین کی علامت بتا کر قرآن مجید کی آیت اَوَلَمْ يَكُن لَّهُمْ آيَةً أَنْ يَعْلَمَهُ عُلَموا بني اسراءيل (الشعراء رکوع ۱۱) پر ناپاک حملہ کیا ہے۔خداوند تعالیٰ تو اس آیت میں اہلِ علم کے ایمان لانے اور جاننے کو اس نبی کی صداقت کی دلیل بتاتا ہے۔چنانچہ اس میں حضرت عبداللہ بن سلام کی طرف بھی اشارہ ہے جیسا کہ مفسرین نے لکھا ہے لیکن معترض پٹیالوی عنادِ احمدیت کے باعث اسے دلیل کذب بتلاتا ہے۔بع تفو بر تو اے چرخ گردوں تفو (۷) حضرت کی وفات لاہور میں معترض پیٹیالوی نے متعدد مقامات پر لکھا ہے کہ مرزا صاحب غریب الوطنی کی حالت میں لاہور میں فوت ہوئے اور اُس وقت اہل لاہور نے بلکہ مچایا۔الخ (عشرہ صفحہ ۷۷ وغیرہ) ہم اس کم علم معترض کو بتانا چاہتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئیوں اور الہامات کے مطابق حضور کالا ہور میں وفات پانا تو آپ کی صداقت کی دلیل ہے۔باقی لا ہور کے بعض بدطینت لوگوں کی بکرہ بازی ان کی بدتہذیبی کا مظہر ہے اس سے حضرت پر کیا اعتراض؟ مولوی ثناء اللہ نے بھی لکھا ہے :- ”بے شک کافروں اور حق کے مخالفوں سے حضرات انبیاء اور اولیاء علیہم السلام (668)