تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 661 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 661

الجواب - معراج کے متعلق ہمارا مذہب یہ ہے۔حضرت اقدس نے تحریر فرمایا ہے :- یہ کی در حقیقت یہ سیر کشفی تھاجو بیداری سے اشد درجہ پر مشابہ ہے بلکہ ایک قسم کی بیداری ہی ہے۔میں اس کا نام خواب ہر گز نہیں رکھتا اور نہ کشف کے ادنی درجوں میں سے اس کو سمجھتا ہوں بلکہ یہ کشف کا بزرگ ترین مقام ہے جو درحقیقت بیداری سے یہ حالت زیادہ اصفی اور اجلی ہوتی ہے۔(ازالہ اوہام طبع سوم صفحہ ۲۰ حاشیہ) گویا ہم معراج کو بیداری کا واقعہ مانتے ہیں اور اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا نورانی وجود اس سیر کے لئے گیا۔ہاں جسم خا کی اسی زمین پر رہا۔یہی وہ عقیدہ ہے جو امت اسلامیہ کے ایک معتد بہ گروہ کا رہا ہے۔ملاحظہ فرمائیے ،لکھا ہے:۔عبد اللہ بن عباس اور بہت سے صحابہ کا اعتقاد تھا کہ رسول اللہ نے معراج میں خدا کو آنکھوں سے دیکھا۔حضرت عائشہ نہایت اصرار سے اس کے مخالف تھیں، امیر معاویہ کو معراج جسمانی سے انکار تھا۔(سیرۃ النعمان مصنفہ شبلی جلد ۲ صفحہ ۱۳) الجواہے۔معترض پٹیالوی نے اپنی ”جمہوریت کے لئے زاد المعاد کا حوالہ دیا ہے۔زاد المعاد میں لکھا ہے :۔" وَقَدْ نَقَلَ ابْنُ إِسْحَقَ عَنْ عَائِشَةَ وَمُعَاوِيَةَ أَنَّهُمَا قَالَا اِنَّمَا كَانَ الْإِسْرَاءُ بِرُوحِهِ وَلَمْ يُفْقَدُ جَسَدُهُ وَنُقِلَ عَنِ الْحَسَنِ الْبَصَرِي نَحْوَ ذَالِكَ وَلَكِنْ يَنبَغِي أَنْ يُعْلَمَ الْفَرْقُ بَيْنَ اَنْ يُقَالَ كَانَ الْإِسْرَاءُ مَنَا مَّا وَبَيْنَ أَنْ يُقَالَ گان پروحِهِ دُونَ جَسَدِهِ وَبَيْنَهُمَا فَرُقُ عَظِيمٌ وَعَائِشَةُ وَمُعَاوِيَةُ لَمْ يَقُولَا كَانَ مَنَامًا وَإِنَّمَا قَالَا أُسْرِيَ بِرُوحِهِ وَلَمْ يُفْقَدُ جَسَدُهُ وَفَرُقٌ بَيْنَ الْآمُرَيْنِ فَإِنَّ مَا يَرَاهُ النَّائِمُ قَد يَكُونُ أَمْثَالًا مَضْرُوبَةً لِلْمَعُلُومِ فِي الصُّوَرِ الْمَحْسُوسَةِ فَيَرَىٰ كَأَنَّهُ قَدْ عُرِجَ بِهِ إِلَى السَّمَاءِ أَوْ ذُهِبَ (661)