تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 657 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 657

فصل یازدهم متفرق اہم سوالا کے جوابات اس فصل میں ہم اُن سوالات کے جواب درج کر رہے ہیں جن پر سابقہ فصول میں گفتگو نہیں ہو سکی۔طبع ثانی کے وقت جو بعض نئے سوالات سامنے آئے ہیں ان کے جواب بھی شامل ہیں، تاہم حجم کی زیادتی کی وجہ سے اختصار کو مدنظر رکھا گیا ہے۔(۱) شعر اور نبوت - اعتراض قرآن مجید سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی شاعر نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَمَا عَلَّمْنَهُ الشَّعْرَ وَمَا يَنْبَغِي لَهُ (یس رکوع ۵ ) کہ ہم نے نبی کو شعر کی تعلیم نہیں دی اور نہ ہی اس کے مناسب ہے۔چونکہ حضرت مرزا صاحب نے شعر کہے ہیں اسلئے وہ نبی نہیں ہو سکتے۔الجواب الاول - سورۃ لیس میں ساری آیت یوں ہے :- وَمَا عَلَّمْنَهُ الشَّعْرَ وَمَا يَنبَغِى لَهُ إِنْ هُوَ إِلَّا ذِكْرٌ وَ قُرْآنٌ مُّبِين ( رکوع ۵) کہ ہم نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو شعر نہیں سکھائے اور نہ ہی شعر اس کے مناسب حال تھا۔یہ تو خالص نصیحت، باعث شرف کلام اور قرآن مبین ہے۔آیت پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس میں قرآن مجید کے شعر ہونے کی نفی ہے۔کفار جو قرآن مجید کو شعر کہا کرتے تھے اس کی تردید کی گئی ہے۔قریش رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کو شاعر قرار دیا کرتے ت وَيَقُولُونَ أَبِنَّا لَتَارِكُوا الهَتِنَا لِشَاعِرٍ فَجَنُونِ (صفت رکوع ۲) اور کہتے (657)