تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 652 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 652

مولوی ثناء اللہ صاحب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقابلہ پر اس اعلان کے مطابق آتے۔جو آپ نے مولوی ثناء اللہ صاحب کے خلاف ۱۹۰۷ء میں کیا تھا، تو وہ ضرور ہلاک ہوتے۔اور مجھے یہ یقین ہے، جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات پر جو میں نے مضمون لکھا تھا، اُس میں بھی لکھ چکا ہوں ، کہ مولوی ثناء اللہ کے ساتھ آخری فیصلہ کے متعلق جو کچھ حضرت مسیح موعود نے لکھا تھا، وہ دُعائے مباہلہ تھی۔پس چونکہ مولوی ثناء اللہ صاحب نے اس کے مقابل پر دُعا نہیں کی ، بلکہ اس کے مطابق فیصلہ چاہنے سے انکار کر دیا۔وہ مباہلہ کی صورت میں تبدیل نہیں ہوئی۔اور مولوی صاحب عذاب سے ایک مدت کے لئے بچ گئے۔میری اس تحریر کے شاہد میری کتاب صادقوں کی روشنی کے یہ فقرات ہیں۔مگر جبکہ اس کے انکار مباہلہ سے وہ عذاب اور طرح بدل گیا۔تو اُس نے منسوخ شدہ فیصلہ کو پھر دُہرانا شروع کر دیا۔نیز اگر وہ ایسا کرتا تو خداوند تعالیٰ اپنی قدرت دکھاتا اور ثناء اللہ اپنی گندہ دہانیوں کا مزا چکھ لیتا۔“ عرض میرا یہ ہمیشہ سے یقین ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دُعا دعائے مباہلہ بھی۔لیکن بوجہ اس کے کہ مولوی صاحب نے اس کے قبول کرنے سے انکار کیا۔وہ دُعاء مباہلہ نہیں تھی اور اللہ تعالیٰ نے عذاب کے طریق کو بدل دیا۔خاکسار مرز امحموداحمد خلیفه امسیح الثانی ۳۱۔۱۲۔۳ رپس مولوی ثناء اللہ صاحب کا آخری حیلہ بھی جاتا رہا۔اور صاف گھل گیا کہ سید نا حضرت خلیفہ اسی ایدہ اللہ بنصرہ العزیز بھی ۱۵ را پریل کے اشتہار کو دُعائے مباہلہ ہی سمجھتے تھے اور سمجھتے ہیں * مولوی ثناء اللہ صاحب کے ایک اور غذر کا جواب مولوی ثناء اللہ صاحب کہہ دیا کرتے ہیں کہ میں نے جو اشتہار ۱۵ / ا پریل مباہلہ کا اشتہار لکھا ہے تو یہ محض مرزا صاحب کے اس طریق پر ہے جس طرح انہوں نے مولوی غلام دستگیر قصوری کی یکطرفہ دعا کو مباہلہ قرار دیا ہے۔مولوی (652)