تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 620 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 620

صالحات میں شمار ہو گا۔“ واقعہ یہ ہے کہ مرنے کے بعد مولوی صاحب ایسی جگہ دفن کئے گئے جو نا قابل ذکر ہے۔اور اب تقسیم ملک کے بعد تو شہر بٹالہ کے مسلمانوں سے کلیہ خالی ہو جانے کے باعث، اُن کی قبر بالکل بے نام و نشان ہوگئی ہے۔مجھے پاکستان سے قادیان جانے کا متعدد بار موقعہ ملا ہے۔میں نے ایک مرتبہ بٹالہ جا کر خاص کوشش اور بڑی مشکل سے مولوی صاحب کی قبر کی جگہ کا پتہ لگایا تھا۔اُدھر قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا مزار بہشتی مقبرہ میں ہے اور جماعت احمدیہ کی خاصی تعداد قادیان میں موجود ہے۔صدر انجمن احمد یہ قادیان بدستور قائم ہے اور تبلیغ و تربیت کا سلسلہ پوری شوکت سے جاری ہے۔اور سالانہ جلسہ کے ایام میں آج بھی دُور دراز سے سینکڑوں لوگ قادیان پہنچتے ہیں اور ہر وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی قبر پر اسلام کی ترقی اور آپ کے درجات کی بلندی کیلئے دُعائیں ہو رہی ہیں۔اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مزار پر آج کے رُوحانی نظارہ کا مولوی محمد حسین کی قبر کی موجودہ زبوں حالی سے موازنہ کیا جائے تو آج بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت کا غیر معمولی نقشہ آنکھوں میں پھر جاتا ہے۔اے کاش لوگ آنکھیں کھولیں۔سی سالہ نشان کی پیشگوئی معترض پٹیالوی نے چھٹے نمبر پر سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اشتہار ۱۵ نومبر ۱۸۹۹ء سے یہ دعا نقل کی ہے کہ : اگر میں تیری جناب میں مستجاب الدعوات ہوں تو ایسا کر کہ جنوری ۱۹۰۰ ء سے اخیر دسمبر ۱۹۰۲ ء تک میرے لئے کوئی اور نشان دکھلا اور اپنے بندے کے لئے گواہی دے ان تین سال میں جو اخیر دسمبر ۱۹۰۲ء تک ختم ہو جائیں گے۔کوئی ایسا نشان دکھلا جو انسانی ہاتھوں سے بالا تر ہو۔“ اور پھر لکھا ہے کہ یہ تین سال بھی خالی گزر گئے۔اور کوئی نشان آسمانی جو (620