تفہیماتِ ربانیّہ — Page 578
کے اسباب پید اکرے۔(انوار الاسلام صفحہ ۴) (ب) وہ بڑا ہا و یہ جوموت سے تعبیر کیا گیا ہے۔اس میں کسی قدر مہلت دی گئی ہے۔“ (انوار الاسلام صفحہ ۶) (ج) اور یادر ہے کہ مسٹر عبد اللہ آتھم میں کامل عذاب (موت) کی بنیادی اینٹ رکھ دی گئی ہے۔اور وہ عنقریب بعض تحریکات سے ظہور میں آجائے گی۔خدا تعالی کے تمام کام اعتدال اور رحم سے ہیں اور کینہ ور انسان کی طرح خواہ مخواہ جلد باز نہیں۔(انوار الاسلام صفحہ ۱۰) (د) اس ہماری تحریر سے کوئی یہ خیال نہ کرے کہ جو ہونا تھا ، وہ سب ہو چکا اور آگے کچھ نہیں۔کیونکہ آئندہ کے لئے الہام میں یہ بشارتیں ہیں تُمزِقُ الْأَعْدَاءَ كُل مُحمزّق ہم دشمنوں کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں گے۔یعنی اپنی حجت کامل طور پر اُن پر پوری کر دیں گے۔“ (انوار الاسلام صفحہ ۱۵) (3) اب اگر آتھم صاحب قسم کھا لیویں تو وعدہ ایک سال قطعی اور یقینی ہے۔جس کے ساتھ کوئی بھی شرط نہیں اور تقدیر مبرم ہے۔اور اگر قسم نہ کھاویں تو پھر بھی خدا تعالیٰ ایسے مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑے گا جس نے حق کا اخفا کر کے دُنیا کو دھوکہ دینا چاہا۔اور وہ دن نزدیک ہیں ، دُور نہیں (اشتہار انعامی چار ہزار روپیہ صفحہ ۱۱) (ر) یہ کنارہ کشی ( یعنی آتھم کا قسم سے انکار کرنا) بے سود ہے کیونکہ خدا تعالیٰ مجرم کو بے سزا نہیں چھوڑتا۔نادان پادریوں کی تمام یاوہ گوئی آتھم کی گردن پر ہے۔اگر چہ آتھم نے نالش اور قسم سے پہلو تہی کر کے اپنے اس طریق سے صاف بتلا دیا ہے کہ ضرور اُس نے رجوع بحق کیا اور تین حملوں کے طرز وقوع سے بھی (جن کا وہ مدعی تھا۔ناقل ) بتلا دیا کہ وہ حملے انسانی حملے نہیں تھے۔مگر (578)