تفہیماتِ ربانیّہ — Page 574
پھر سونے کے کنگنوں کی رؤیا روایت میں درج ہے۔گویا مسیلمہ کی ہلاکت اس رؤیا کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں ہونی چاہئے تھی لیکن وہ خلافت صدیقیہ میں ہلاک ہوا۔مولوی ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں کہ : پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی دُعا کا اثر مسلیمہ پر یہ ہو ا تھا کہ آپ کے بعد مرا۔مگر آخر کار چونکہ بے نیل مرام مرا۔اس لئے دُعا کی صحت میں شک نہیں۔“ (ج) تاریخ الخمیس میں لکھا ہے :- (رساله مرقع قادیانی ماہ اگست ۱۹۰۷ صفحه (۸) " وَقَالَ السُّهَيْلُ قَالَ أَهْلُ التَّعْبِيرِ رَأى رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْمَنَامِ آسِيدَ بْنَ أَبِي الْعَيْصِ وَالِهَا عَلَى مَكَّةَ مُسْلِمًا فَمَاتَ عَلَى الْكُفْرِ وَكَانَتِ الرُّؤْيَا لِوَلَدِهِ عَبَّابٍ أَسْلَمَ۔“ (جلد ۲ صفحہ ۱۱۱) سہیل کہتے ہیں اہل تعبیر نے کہا ہے کہ آنحضرت نے اسید کو مکہ کا والی اُس کے مسلمان ہونے کی حالت میں دیکھا تھا لیکن وہ گفر ہی کی حالت میں مر گیا اور یہ رویا اُس کے بیٹے عتاب کے حق میں پوری ہوئی جو اسلام لایا۔ان واقعات اور ایسا ہی ابو جہل کے ہاتھ میں جنت کا انگوری خوشہ دیکھنے سے اس کے بیٹے عکرمہ کا اسلام لانا مراد ہونے سے واضح ہے کہ بعض دفعہ پیشگوئیوں میں ذکر کردہ شخص سے مراد اس کا بیٹا یا جانشین بھی ہوتا ہے۔وَهُوَالمراد۔آٹھواں معیار۔نبی کی ساری پیشگوئیوں کا اس کی زندگی میں پورا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَأَمَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْنَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِلَيْنَا يُرْجَعُونَ (المؤمن رکوع ۸) کہ اے نبی ہو سکتا ہے کہ ہم ان وعدوں کو جو ان کفار سے کئے جارہے ہیں تیری زندگی میں پورا کر دیں۔یا پھر تجھے وفات دے دیں۔اور بعد ازاں ان بعض کو پوار کریں۔نواں معیار۔بعض دفعہ ایسا ہو جاتا ہے کہ پیشگوئی کے وقت ظہور یا اس کے مصداق اشخاص کے سمجھنے کے متعلق غلطی ہو جاتی ہے، یا خدا تعالیٰ کا وعدہ کسی شرط کی وجہ سے ایک قوم کی بجائے دوسری کے حق میں پورا ہوتا ہے۔رسول (574)