تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 566 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 566

ترجمہ - وعدہ اللہ پرحق ہے اور دعید اس کا حق ہے۔جو شخص اپنے نفس کے حق کو ساقط کر دیتا ہے وہ تو اپنی سخاوت اور کرم کا ثبوت دیتا ہے۔ہاں جو غیر کے حق کو گراتا ہے تو یہ کمینگی ہے۔پس وعدہ اور دعید میں فرق ظاہر ہو گیا اور تمہارا قیاس باطل ٹھہرا۔میں نے یہ شعر اس فرق کی وضاحت کے لئے ذکر کیا ہے۔باقی تیرا یہ کہنا کہ اگر خدا تعالیٰ وعید کو پورا نہ کرے تو وہ کا ذب ہوگا اور اپنی بات کا خود مکذب ہوگا۔تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات اُسوقت لازم آتی جب ہر وعید بغیر شرط کے قطعی طور پر ثابت ہوتا۔حالانکہ میرے نزدیک سب وعید عدم العفو کے ساتھ مشروط ہیں۔پس اگر اللہ تعالیٰ وعید کو ترک کر دے تو اس سے اس کے کلام میں کذب لازم نہیں آتا۔“ پھر مسلم الثبوت میں لکھا ہے۔اِنَّ الْإِيْعَادَ فِي كَلَامِهِ تَعَالَى مُقَيَّدُ بِعَدَمِ الْعَفْوِ کہ اللہ کی کلام میں ہر و عید مقید ہوتا ہے۔(صفحہ ۲۸) علامہ ابو الفضل تحریر فرماتے ہیں :- " إِنَّ آيَاتِ الْوَعْدِ مُطْلَقَةٌ وَآيَاتُ الْوَعِيدِ وَإِنْ وَرَدَتْ مُطْلَقَةً لكِنَّهَا مُقَيَّدَةٌ حُذِفَ قَيْدُ هَا لِمَزِيْدِ التَّخْوِيْفِ۔“ ( تفسیر روح المعانی جلد ۴ صفحه ۱۹۰) ترجمہ : تحقیق وعدہ کی آیات بغیر شرط مطلق ہوتی ہیں۔اور وعید والے الہامات اگر چہ ان کے ساتھ شرط مذکور نہ ہو تا ہم وہ مقید ہوتے ہیں۔ان کی قید اور شرط زیادہ خوف دلانے کی خاطر حذف کر دی جاتی ہے۔“ پس تیسرا معیار یہ ہے کہ ہر وعیدی پیشگوئی مشروط ہوتی ہے۔چوتھا معیار : - پیشگوئی یا امرغیب کے ظہور سے قبل اس کا پورے طور پر سمجھ آنا ضروری نہیں۔" _: الف معترض پیٹیالوی خود لکھتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھایا گیا کہ آپ کی ہجرت گاہ وہ زمین ہوگی جس میں کھجوروں کے باغ ہوں گے۔مکہ معظمہ میں رہ کر آپ کا خیال اس زمین کے متعلق یمامہ کی طرف گیا۔کیونکہ وہاں بھی کھجوروں کے باغ بکثرت ہیں۔چنانچہ حضور نے فرمایا فَذَهَبَ وَهْلِي إِلَى (566