تفہیماتِ ربانیّہ — Page 561
فصل منم پیشگوئیوں پر اعتراضات کے جواب اے فقیہو عالمو مجھ کو سمجھ آتا نہیں یہ نشانِ صدق پا کر پھر یہ کیں اور یہ نقار ( حضرت مسیح موعود) اللہ تعالیٰ کی قدرت کا ملہ اور علم تام کا ثبوت ابنیاء کے ذریعہ دیا جاتا ہے۔ان کی پیشگوئیاں ایک طرف ذات باری کے علیم کل ہونے پر زبر دست گواہ ہوتی ہیں، اور دوسری طرف نبیوں کی صداقت کا بین ثبوت۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے علِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِةٍ أَحَدًا إِلَّا من از تطى مِن رَّسُولِ (الجن رکوع ۲) علم غیب میری ذات سے مخصوص ہے۔میں اپنے غیب پر بجز برگزیدہ رسولوں کے کسی کو مطلع نہیں کرتا۔اس آیت سے ظاہر ہے کہ پیشگوئیاں نبیوں کی صداقت کا بہت بڑا ثبوت ہیں۔اور ہر نبی اس ثبوت کے ذریعہ اپنی سچائی کا اعلان کرتا رہا ہے۔غلطی پر ہے وہ شخص جو لکھتا ہے کہ :- پیشگوئی کرنا انسانی طاقت سے باہر نہیں۔اور یہ امر انبیاء کرام اور عام لوگوں میں مشترک ہے۔یہی وجہ ہے کہ کسی نبی نے کبھی اپنی کسی پیش گوئی کو اپنے صدق و کذب کا معیار قرار نہیں دیا۔“ ( تحقیق لاثانی صفحه ۱۴۶) کیونکہ قرآن مجید الہی غیب کا چابی بردار صرف انبیاء کو قرار دیتا ہے اور اُنکے غیر کے لئے اللہ کے غیب کے پانے کا راستہ مسدود بتاتا ہے۔مگر معترض پٹیالوی اس کو ” عام لوگوں کی ایک مشتر کہ جائیداد بتاتا ہے۔العجب ! سوره مومن میں آل فرعون کے الفاظ میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔وَإِنْ يَكُ صَادِقًا (561)