تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 551 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 551

یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ تصوف اور شریعت دو متفائر امور نہیں۔تصوف عین شریعت ہے اور شریعت مین تصوف۔(عشرہ صفحہ ۱۴۳) یہ درست ہے لیکن اگر تم بھی اس کو مانتے تو اس عنوان کی کیا ضرورت تھی؟ کیا شریعت کے ضمن میں یہ اعتراض نہ ہو سکتے تھے۔اس ضمن میں معترض نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت جنید رحمتہ اللہ علیہ کا مقابلہ کیا ہے لیکن بالعموم حضرت اقدس کی طرف خودتراشیدہ باتیں یا از خود الزام منسوب کر کے ان صفحات کو سیاہ کیا ہے جن کا جواب صرف لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِيْن ہے۔تاہم قوله واقول کے طریق پر جوابات درج ذیل ہیں۔(۱) قوله - مرزا صاحب اور ان کے مرید عام مسلمانوں کی طرح حضرت جنید بغدادی رحمتہ اللہ علیہ کو ایک بزرگ مانتے ہیں۔“ (عشره صفحه ۱۴۳) اقول۔اس سے ظاہر ہے کہ آنحضرت اور حضرت مسیح کے متعلق جو تم نے الزام لگائے تھے وہ بھی باطل ہیں۔ورنہ یہ کیا بات ہے کہ جماعت احمد یہ حضرت جنید کو تو بزرگ مانے لیکن نبیوں کی ہتک کرے؟ (۲) قوله - اپنی تصویر اتروا کر مریدوں کے پاس فروخت کی۔گویا ایسے شرک کو رواج دیا جو ۱۳۰۰ برس سے بند کیا جا چکا تھا۔“ اقول - لَعْنَةُ اللهِ عَلَى الْكَاذِبِينَ صریح جھوٹ ہے۔تفصیل پہلے گزر چکی ہے۔(۳) قوله "کیا کوئی مثال ہے کہ مرزا صاحب کو کسی لغزش پران کے خدا نے تنبیہ کی ہو۔(عشرہ صفحہ ۱۴۴) اقول۔یہ مطالبہ معترض نے حضرت جنید کے اس واقعہ پر کیا ہے کہ ایک بار انہوں نے کسی بیمار کے لئے شفاء کی دعا کی۔ہاتف غیب سے آواز آئی اے جنید! خدا اور اس کے بندے کے درمیان تیرا کیا کام؟ (551)