تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 537 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 537

صورت میں شائع نہیں ہوگا بلکہ وہ کسی اور صورت میں اور کسی اور وقت میں شائع ہوگا۔وہ رویا یہ ہے۔حضرت تحریر فرماتے ہیں :- اس احقر نے ۱۸۶۴ ء یا ۶۵ ۱۸ عیسوی میں یعنی اسی زمانہ کے قریب جب یہ ضعیف اپنی عمر کے پہلے حصہ میں ہنوز تحصیل علم میں مشغول تھا جناب خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم کو خواب میں دیکھا اور اُس وقت اِس عاجز کے ہاتھ میں ایک دینی کتاب تھی کہ جو خود اس عاجز کی تالیف معلوم ہوتی تھی۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کتاب کو دیکھ کر عربی زبان میں پوچھا کہ تو نے اس کتاب کا کیا نام رکھا ہے؟۔خاکسار نے عرض کیا کہ اس کا نام میں نے قطبی رکھا ہے جس نام کی تعبیر اب اس اشتہاری کتاب کے تالیف ہونے پر یہ کھلی کہ وہ ایسی کتاب ہے کہ جو قطب ستارہ کی طرح غیر متزلزل اور مستحکم ہے جس کے کامل استحکام کو پیش کر کے دس ہزار روپیہ کا اشتہار دیا گیا ہے۔غرض آنحضرت نے وہ کتاب مجھ سے لے لی اور جب وہ کتاب حضرتِ مقدس نبوی کے ہاتھ میں آئی تو آنجناب کا ہاتھ مبارک لگتے ہی ایک نہایت خوش رنگ اور خوبصورت میوہ بن گئی کہ جو امرود سے مشابہ تھا مگر بقدرتر بوز تھا۔آنحضرت صلعم نے جب اس میوہ کو تقسیم کرنے کے لئے قاش قاش کرنا چاہا تو اس قدر اس میں سے شہر نکلا کہ آنجناب کا ہاتھ مرفق تک شہد سے بھر گیا۔تب ایک مردہ کہ جو دروازے سے باہر پڑا تھا۔آنحضرت کے معجزے سے زندہ ہو کر اس عاجز کے پیچھے آکھڑا ہوا۔یہ مردہ دین اسلام ہے جیسا کہ اس خواب کے آخر میں حضور فرماتے ہیں ” جو دین اسلام کی تازگی اور ترقی کی طرف اشارت تھی۔(مؤلف) آپ کے پیچھے کھڑا ہونے سے مراد آپ کا اسلام کی حمایت میں دشمنانِ اسلام کے مقابل پر معرکہ آراء ہونا اور آپ کے ہاتھ سے اللہ تعالیٰ کا اسلام کی حمایت کروانا ہے۔(مؤلف) (537)