تفہیماتِ ربانیّہ — Page 487
مَصَابِيحَ وَحِفْظًا سے یعنی حِفْظًا کے لفظ سے معلوم ہوتا ہے۔یعنی نظام دنیا کی محافظت میں ان ستاروں کو دخل ہے۔اسی قسم کا دخل جیسا کہ انسانی صحت میں دوا اور غذا کو ہوتا ہے۔جس کو الوہیت کے اقتدار میں کچھ دخل نہیں بلکہ جبروت ایزدی کے آگے یہ تمام چیزیں بطور مردہ ہیں۔یہ چیزیں بجز اذن الہی کچھ نہیں کر سکتیں۔ان کی تاثیرات خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں۔پس واقعی اور صحیح امر یہی ہے کہ ستاروں میں تاثیرات ہیں جن کا زمین پر اثر ہوتا ہے۔لہذا اُس انسان سے زیادہ تر کوئی دنیا میں جاہل نہیں کہ جو بنفشہ اور نیلوفر اور تربد اور سقمونیا اور خیار شنبزر کی تاثیرات کا تو قائل ہے مگر ان ستاروں کی تاخیرات کا منکر ہے جو قدرت کے ہاتھ کے اول درجہ پر تجلی گاہ اور مظہر العجائب ہیں۔جن کی نسبت خود خدا تعالیٰ نے حفظا کا لفظ استعمال کیا ہے۔یہ لوگ جو سراپا جہالت میں غرق ہیں اس علمی سلسلہ کو شرک میں داخل کرتے ہیں۔نہیں جانتے جو دنیا میں خدا تعالے کا قانونِ قدرت یہی ہے جو کوئی چیز اس نے لغو اور بے فائدہ اور بے تاثیر پیدا نہیں کی جبکہ وہ فرماتا ہے کہ ہر ایک چیز انسان کے لئے پیدا کی گئی ہے۔تو اب بتلاؤ کہ سماء الدنیا کو لاکھوں ستاروں سے پُر کر دینا انسان کو اس سے کیا فائدہ ہے؟ “ (تحفہ گولڑویہ صفحہ ۱۱۱ حاشیہ طبع اوّل) ناظرین کرام ! سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مندرجہ بالا اقتباسات سے صاف ظاہر ہے کہ حضور نے فرشتوں کا وجود تسلیم کیا ہے اور اسی صورت میں تسلیم کیا ہے جیسا کہ قرآن پاک میں مذکور ہے۔ان کو ستاروں کی ارواح نہیں بلکہ ان پر اور کائنات کے ہر ذرہ پر بازنِ الہی مدبر مانا ہے۔فرشتے دنیا میں نازل ہوتے ہیں مگر اپنے تمثلی وجود کے ساتھ نہ کہ حقیقی وجود کے ساتھ۔چنانچہ نزول وحی کی صورتوں میں فرشتوں کے ذریعہ وحی کے ذکر میں (487)