تفہیماتِ ربانیّہ — Page 479
اقول۔قطع نظر اس سوال کے کہ خود حضرت امام اعظم اور دیگر بزرگانِ اسلام غیر تشریعی نبوت کے قائل تھے۔( جیسا کہ فصل دوازدہم میں مذکور ہے ) ہم ایک لمحہ کے لئے ایسا غلط فتویٰ حضرت امام اعظم رضی اللہ عنہ ایسی عظیم ہستی سے منسوب کرنے کے لئے تیار نہیں۔یہ فتویٰ روایا اور درایت دونوں طرح اس قابل نہیں کہ اس کو حضرت امام اعظم کا فتویٰ کہا جائے۔بلحاظ درایت یہ نہ صرف بے دلیل ہے بلکہ اس میں خلاف عقل بات کہی گی ہے۔کیا معجزہ کا مطالبہ اس مدعی کی صداقت کے متعلق رجمانِ خیال پر ہی مبنی ہے؟ ہرگز نہیں۔بلکہ بسا اوقات انسان محض دوسرے کو عاجز ثابت کرنے یا لوگوں پر اس کے کذب کے اظہار کے لئے معجزہ طلب کرتا ہے کیا ایسے شخص کو امام اعظم جو فتویٰ تکفیر سے کوسوں دور تھے محض مطالبہ پر کافر قرار دیں گے؟ لاولا۔حضرت ابراہیم علیہ السلام نے نمرود سے کہا تھا فَإِنَّ اللهَ يَأْتِي بِالشَّمْسِ مِنَ الْمَشْرِقِ فَأْتِ بِهَا مِنَ الْمَغْرِب ( بقرہ رکوع ۳۵) کہ خدا سورج کو مشرق سے لاتا ہے اگر تو سچا ہے تو اس کو مغرب سے لے آ۔کیا نعوذ باللہ حضرت ابراہیم کو وحدانیت الہی میں شبہ تھا؟ ہر گز نہیں۔معلوم ہو ا مطالبہ معجزہ شبہ کی بناء پر ہی نہیں ہو ا کرتا۔اہل سنت والجماعت کے عقائد کی مشہور کتاب شرح عقائد نسفی اور نبراس میں اس بات پر مفصل بحث کی گئی ہے کہ جو مدعی نبوت معجزہ دکھا سکے وہ نبی ہوگا۔جھوٹے نبی کو اللہ تعالیٰ ہرگز ہرگز یہ شانِ امتیازی عطا نہیں فرماتا۔چنانچہ ایک جگہ لکھا ہے : -: أَجْمَعَ الْمُحَقِّقُوْنَ عَلَى آنَّ ظُهُورَ الْخَارِقِ عَنِ الْمُتَنَتِي وَهُوَ الْكَاذِبُ فِي دَعْوَى النُّبُوَّةِ مُحَالٌ لِآنَّ دَلَالَةَ الْمُعْجِزَةِ عَلَى الصِّدْقِ قَطْعِيَّةٌ۔“ ( نبراس صفحہ ۴۳۱) (479)