تفہیماتِ ربانیّہ — Page 473
بود واقع شد ( حج الکرامه صفحه ۲۳۹) پس اب اسی حدیث کو بطور سند پیش کرتے رہنا مناسب نہیں۔کیا آپ لوگوں کے دجالوں کا سلسلہ کہیں منقطع ہو کر کوئی سچا اور صادق مصلح بھی پیدا ہوگا یا نہیں؟ (ج) قرآن مجید بچے اور جھوٹے نبی کے لئے مابہ الامتیاز پیش کرتا ہے۔پس اس کو معیار بنا کر فیصلہ کر سکتے ہو۔منہاج نبوت اور علامات صادقین جس مدعی پر چسپاں ہوں۔اس کو جھوٹا کہنا، تقویٰ کا طریق نہیں۔دیکھو تم نے خود انجیل کے یہ الفاظ درج کئے ہیں کہ مسیح نے کہا ” بہت جھوٹے نبی اُٹھیں گے اور بہتوں کو گمراہ کریں گے۔“ عشرہ صفحہ ۱۰۵) کیا اگر ایک پادری یہی آیت پیش کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف استدلال کرے تو وہ حق بجانب ہوگا؟ ہر گز نہیں! کیونکہ جہاں سیخ نے جھوٹے نبیوں کی خبر دی ہے وہاں بچے نبیوں کا بھی ذکر فرمایا ہے۔مثلاً وہ نبی کی آمد کی خبر، نیز مثیل مسیح (نبی اللہ ) کی آمد کی بشارت دی ہے، بعینہ اسی طرح رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک طرف کذابوں کی خبر دی ہے تو دوسری طرف بچے نبی اللہ کا بھی ذکر فرمایا ہے۔() ہمیں ان لوگوں پر تعجب ہے جو وقت کی نزاکت ، امت محمدیہ کے حالات کے اقتضاء کو پس پشت ڈال کر خدا کے بچے نبی حضرت مرزا غلام احمد علیہ الصلوۃ والسلام کی تکذیب پر کمربستہ ہیں۔کیا صدی کا شروع مجدد دین کا مقتضی نہ تھا؟ کیا غیر مذاہب کی پورشیں اور اسلام کی بے کسی پکار پکار کر صلح ربانی کا مطالبہ نہ کر رہی تھی ؟ اے قوم! کیا تو موسم خزاں کے بعد بہار اور رات کے بعد دن کے طلوع کی منتظر نہیں ہوتی ؟ کیا ظلمت کا انتہاء نور کے وجود کو نہیں چاہتا۔پھر کیوں ان حالات میں آنے والے کو تم دجال کہتے ہو اور اس کی مخالفت پر آمادہ ہو؟ سنو۔خدا کا برگزیدہ پیغمبر قادیان فرماتا ہے :۔یہ لوگ اب تک آسمانی گورنمنٹ کے باغی ہیں خدا کے نشانوں کو نہیں دیکھتے۔اُمّتِ ضعیفہ کی ضرورت پر نظر نہیں ڈالتے۔صلیبی غلبہ کا مشاہدہ نہیں کرتے اور ہر روز ارتداد کا گرم بازار دیکھ کر ان کے دل نہیں کانپتے۔(473)