تفہیماتِ ربانیّہ — Page 472
لیں! پس معترض کا یہ اعتراض تو ایک دلیل صداقت ہے۔اے کاش لوگ تدبر سے کام (۱۰) قوله " ہم صرف اس قدر لکھنا چاہتے ہیں کہ جھوٹے نبیوں کا اس اُمت میں حسب پیشگوئی مخبر صادق حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم ہونا ضروری تھا۔جیسا کہ پچھلے زمانہ میں بھی ہوتے رہے۔“ (عشرہ صفحہ ۱۰۴) اقول - (الف) کیا رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف جھوٹوں کی ہی بشارت دی ہے؟ کیا امت مرحومہ کے خیر امت ہونے کا یہی ثبوت ہے کہ اس میں تفرق و تشیّت کے انتہائی عالم میں بھی دجال اور جھوٹے نبی ہی آئیں گے؟ حضور سرور کائنات نے تو آنے والے مسیح موعود کو چار مرتبہ نبی اللہ کہ کر بچوں کی بھی خبر دی تھی مگر قوم اس سے غافل ہے۔(ب) شارحین حدیث لکھ چکے ہیں کہ وہ تعداد تین یا ستائیس پوری ہو چکی ہے۔چنانچہ صحیح مسلم کی شرح میں حدیث يُبْعَثُ دَجَّالُونَ كَذَّابُونَ کے ماتحت لکھا ہے :- هذَا الْحَدِيثُ ظَهَرَ صِدْقُهُ فَإِنَّهُ لَوْ عُدَّ مَنْ تَنَبَّأَ مِنْ زَمَنِهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْآنَ لَبَلَغَ هَذَا الْعَدَدَ وَيَعْرِفُ ذَلِكَ مَنْ يُطَالِعُ التَّوَارِيخَ وَلَوْلَا الْإِطَالَهُ لَفَعَلْنَا ذَلِكَ “ المال الا کمال جلدے صفحہ ۲۵۸ مطبوعہ مصر ) ترجمہ۔اس حدیث کی صداقت ظاہر ہو چکی ہے کیونکہ اگر ان لوگوں کا شمار کیا جاوے جنہوں نے حضور کے زمانہ سے لیکر آج تک جھوٹے دعاوی نبوت کئے ہیں تو وہ اس عدد تک پہنچ جاتے ہیں۔اس بات کو ہر وہ شخص جانتا ہے جو تاریخ کا مطالعہ رکھتا ہے۔اگر خوف طوالت نہ ہوتا تو ہم ان کو بالتفصیل ذکر کرتے۔“ اس تحریر کا راقم ۲۸ ھ میں فوت ہوا ہے۔نواب صدیق حسن خان صاحب نے لکھا ہے :- بالجمله آنچہ آنحضرت صلعم اخبار بوجود دجالین کذابین در یں امت فرموده (472)