تفہیماتِ ربانیّہ — Page 465
کہ تصویر کی حرمت قطعی ہے۔قرآن شریف سے ثابت ہوتا ہے کہ فرقہ جن حضرت سلیمان کے لئے تصویریں بناتے تھے اور بنی اسرائیل کے پاس مدت تک انبیاء کی تصویریں رہیں۔جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بھی تصویر تھی۔اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو حضرت عائشہ کی تصویر ایک پارچہ ریشمی پر جبرئیل علیہ السلام نے دکھلائی تھی۔اور پانی میں بعض پتھروں پر جانوروں کی تصویر میں قدرتی طور پر چھپ جاتی ہیں۔اور یہ آلہ جس کے ذریعہ سے اب تصویر لی جاتی ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے وقت میں ایجاد نہیں ہوا تھا۔اور یہ نہایت ضروری آلہ ہے جس کے ذریعہ سے بعض امراض کی تشخیص ہوسکتی ہے۔ایک اور آلہ تصویر کا نکلا ہے جس کے ذریعہ سے انسان کی تمام ہڈیوں کی تصویر کھینچی جاتی ہے اور وجمع المفاصل و نقرس وغیرہ امراض کی تشخیص کے لئے اس آلہ کے ذریعہ سے تصویر کھینچتے ہیں اور مرض کی حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ایسا ہی فوٹو کے ذریعہ سے بہت سے علمی فوائد ظہور میں آئے ہیں۔چنانچہ بعض انگریزوں نے فوٹو کے ذریعہ سے دنیا کے کل جانداروں یہاں تک کہ طرح طرح کی ٹڈیوں کی تصویریں اور ہر ایک قسم کے پرند اور چرند کی تصویریں اپنی کتابوں میں چھاپ دی ہیں جس سے علمی ترقی ہوئی ہے۔پس کیا گمان ہوسکتا ہے کہ وہ خدا جو علم کی ترغیب دیتا ہے وہ ایسے آلہ کا استعمال کرنا حرام قرار دے جس کے ذریعہ سے بڑے بڑے امراض کی تشخیص ہوتی ہے اور اہلِ فراست کے لئے ہدایت پانے کا ایک ذریعہ ہو جاتا ہے۔یہ تمام جہالتیں ہیں جو پھیل گئی ہی۔ہمارے ملک کے مولوی چہرہ شاہی له يعملون له ما يشاء من محاريب وتماثيل وجفان كالجواب۔الآیہ ( سبارکوع ۲) (مؤلف) لے ملاحظہ ہو الانوار المحمدية از مواهب الله نیه صفحه ۳۷۹ و صفحه ۳۸۰ مطبوعہ بیروت ۳۱۰اه - (مؤلف) سے بخاری کتاب الرؤیا - (مؤلف) 465