تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 455 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 455

شایانِ شان ہوں۔قرآن مجید میں خدا کے ہاتھوں ( يَدَاهُ مَبْسُوطَتَانِ ) اور چہرہ کا ذکر آیا ہے۔اگر کوئی نادان اس سے ہمارے ہاتھوں کی طرح کے ہاتھ مراد لے تو ہم اُسے بے وقوف ہی کہیں گے۔کیونکہ خدا کے ہاتھ اُس کی شان کے مطابق ہیں۔اسی طرح اس کا سمیع و بصیر ہونا بھی اپنے رنگ میں ہے۔اسی طرح لفظ عاج کے معنے بھی اللہ کی شان کے مناسب ہی کرنے چاہئیں۔بے شک اس لفظ کے معنے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر نہیں فرمائے بلکہ حضور نے براہین احمدیہ کے زمانہ میں تحریر فرمایا ہے کہ اس کے معنے مجھ پر نہیں کھلے۔یہ بیان اگر چہ حضرت اقدس کی صداقت کا درخشندہ ثبوت ہے۔مگر جن لوگوں کے دلوں پر پردے ہیں اُن کے لئے یہ بھی قابلِ اعتراض ہے۔ایسے لوگوں کی آگاہی کے لئے اتنا لکھنا ہی کافی ہے کہ مقطعات قرآنی کے متعلق تفاسیر میں لکھا ہے کہ ان کا علم کسی کو نہیں ، یہ صرف اللہ کو ہی پتہ ہے۔مثلاً امام رازی کی تفسیر کبیر میں لکھا ہے :- " فِي قَوْلِهِ تَعَالَى المَ وَمَا يَجْرِى مَجْرَأَهُ مِنَ الْفَوَاتِحَ قَوْلَانِ أحَدُهُمَا أَنَّ هَذَا عِلْمٌ مَسْتُورٌ وَسِرٌ مَحْجُوبُ اِسْتَأْثَرَ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى بِهِ قَالَ أَبُو بَكْرِ الصَّدِّيقُ فِى كُلِّ كِتَابِ سِرُّ وَسِرُّهُ فِي الْقُرْآنِ أَوَائِلُ السُّوَر۔“ ( تفسیر کبیر جلد ا صفحه ۲۲۷) کہ مقطعات کے متعلق ایک قول یہ ہے کہ یہ خفی علم اور پوشیدہ راز ہے جس کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔حضرت ابوبکر نے فرمایا کہ ہر کتاب میں اللہ کا بھید ہوتا ہے اور اس کا راز قرآن میں سورتوں کے ابتدائی الفاظ ہیں۔پھر نواب صدیق حسن خان لکھتے ہیں :- لا بُعْدَ فِي تَكَلُّمِ اللهِ تَعَالَى بِكَلامِ مُفِيَّدٍ فِي نَفْسِهِ لَا سَبِيلَ لِأَحَدٍ إلى مَغْرِفَتِهِ أَلَيْسَتْ فَوَائِحِ السُّوَرِ مِنْ هَذَا الْقَبِيْلِ وَهَلْ يَجُوزُ لاحَدٍ أَنْ يَقُولَ إِنَّهُ كَلَامُ غَيْرَ مُفِيدٍ وَهَلْ لِأَحَدٍ سَبِيْلٌ إِلَى إِذْ رَاكِهِ۔“ (السراج الوهاج شرح مسلم جلد ۲ صفحہ ۷۷۴) ترجمہ - یہ بات بعید نہیں کہ اللہ تعالیٰ ایسی عبارت میں کلام کرے جو فی ذاتہ مفید ہولیکن کوئی نہ سمجھ سکے۔کیا سورتوں کے پہلے الفاظ ، مقطعات، اسی طرز کے 455