تفہیماتِ ربانیّہ — Page 454
فِي أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ هَلْ رَأَى رَبَّهُ لَيْلَةَ الْمِعْرَاجِ أَمْ لَا وَالْاِخْتِلَافُ فِي الْوَقُوْعِ دَلِيْلٌ عَلَى الْإِمْكَانِ وَأَمَّا الرُّؤْيَةُ فِي الْمَنَامِ فَقَدْ حُكِيَتْ عَنْ كَثِيرٍ مِّنَ السَّلَفِ وَلَا خِفَاءٍ فِي أَنَّهَا نَوْعُ مُشَاهَدَةٍ بِالقَلبِ دُونَ الْعَيْنِ (بر اس صفحہ ۲۶۰) پس معترض کا یہ اعتراض باطل ہے۔الهام ربّنا عاج پر اعتراض کا جواب (۵) قوله "ربنا عاج کے متعلق لکھا کہ معنے معلوم نہیں۔سنو عاج کے معنے ہاتھی دانت استخوان فیل۔گوبر وغیرہ۔اب مرزائی صاحبان کی مرضی ہے کہ اس الہام کی رُو سے اپنے خدا کو ہاتھی دانت کا سمجھ لیں یا گو برگنیش ہے بریں عقل و ایماں تفاخر کنید (ملخصا عشره صفحه ۱۰۱) اقول۔مصنف عشرہ نے ابتداء کتاب میں اپنے کم علم ہونے کا اقرار کیا ہے۔ہماری دانست میں اگر وہ ایسا اقرار نہ بھی کرتے تب بھی ان کی کم علمی نہایت عریاں تھی۔لیکن اس قسم کے اعتراضات سے جہاں ان کی کم علمی بلکہ عدم علم ( جہل) کا ثبوت ملتا ہے وہاں شرارت بھی ظاہر ہے۔معترض پٹیالوی اس جگہ حضرت کا الہام براہین احمدیہ صفحہ ۵۵۵ سے بایں الفاظ نقل کرتا ہے : اغْفِرْ وَارْحَمْ مِنَ السَّمَاءِ رَبُّنَا عَاج اور پھر عاج کے ایسے گندے معنے کرتا ہے۔کیا مغفرت اور رحم کا قرینہ اس کی عقل کی رہنمائی نہ کر سکا کہ اس جگہ کیا معنے کرنے چاہئیں۔کیا پھر ایسی عقل پر ماتم نہ کرنا چاہئے؟ میرے بھائیو! ہم کس بناء پر آریوں اور عیسائیوں کو مکر، کید وغیرہ کے معنے فریب کرنے میں مجرم گردانتے ہیں جبکہ منکر پٹیالوی ایسی قماش کے لوگ رَبُّنَا عَاج کے معنوں میں اپنی گندی فطرت کا ثبوت دیتے ہیں؟ کسی نے خوب کہا ہے الا ناءُ يَترشح يما فيه برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اُس میں ہوتا ہے۔صاف بات تھی کہ یہ لفظ اللہ تعالیٰ کی نسبت وارد ہوا ہے اس کے وہی معنے کرنے چاہئیں جو اس کے (454)