تفہیماتِ ربانیّہ — Page 453
ارْجِعُوا وَرَاءَ كُمْ فَالْتَمِسُوا نُوراً (الحديد ركوع ۲) اندریں صورت حضرت مسیح موعود کی عبارت تو عین آیت قرآنی کا ترجمہ ہے جس پر محض جہالت سے اعتراض کر دیا گیا ہے۔افسوس آنکھ کے اندھوں کو حائل ہو گئے سو سو حجاب ورنہ قبلہ تھا ترا رُخ کافر و دیندار کا چہارم۔اگر یہ درست ہے کہ صاحب الہام لوگ خدا کو کسی رنگ میں بھی نہیں دیکھ سکتے تو پھر بتلائیے کہ ان حوالجات اور ان کے کہنے والوں کے متعلق آپ کیا فتویٰ دیں گے؟ (۱) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔آتَانِيَ اللَّيْلَةَ رَبِّي تَبَارَكَ وَتَعَالَى فِي أَحْسَنِ صُورَةٍة ( ترمذی جلد ۲ صفحہ ۱۵۵) کہ میں نے اپنے رب کو اچھی صورت میں دیکھا۔“ (۲) عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ إِنَّهُ كَانَ يَقُولُ آنَّ مُحَمَّداً صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأَى رَبَّهُ مَرَّتَيْنِ مَرَّةٌ بِبَصَرِهِ وَمَرَّةٌ بِفُؤَادِه (زرقانی جلد ۲ صفحہ ۱۱۷) حضرت ابن عباس کہتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دو مرتبہ دیکھا۔ایک دفعہ آنکھوں کے ساتھ ایک دفعہ دل کے ساتھ۔“ (۳) قَالَ أَبُو الْحَسَنِ الْأَشْعَرِيُّ وَجَمَاعَةٌ مِنْ أَصْحَابِهِ أَنَّهُ رَأَى الله بِبَصَرِهِ وَعَيْنَى رَأْسِه (الشقا لقاضی عیاض صفحہ ۱۹) امام ابوالحسن اشعری اور ایک جماعت کا قول ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو اپنی نظر اور اپنے سر کی آنکھوں سے دیکھا تھا۔“ الغرض حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے وہی فرمایا جو امت کے سارے بزرگ کہتے رہے ہیں۔اس پر اعتراض کرنا گویا سب حقائق کا انکار کرنا ہے۔ہاں یہ یادر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عبارت مذکورہ میں ” جو نور محض ہے صاف بتارہا ہے کہ حضرت کے نزدیک اللہ تعالی کا کوئی جسم نہیں کہ اس کی جسمانی شکل میں اس کو دیکھا جائے۔بلکہ یہ دیدار اور زیارت نورانی ہے جس کا سب اہلِ علم اقرار کرتے ہیں۔تفصیل کے لئے نبر اس کا باب "رؤية الله تعالیٰ“ ملاحظہ کریں جہاں طویل بحث کر کے آخر یہی ثابت کیا گیا ہے :- هذَا مُشْعِرُ بِامْكَانِ الرُّؤْيَةِ فِي الدُّنْيَا وَلِهَذَا اخْتَلَفَ الصَّحَابَةُ (453)