تفہیماتِ ربانیّہ — Page 430
مہدی معہود کے اصحاب کی اس وقت تعداد تین سو تیرہ تھی جن کے نام ضمیمہ انجام آتھم کے ان صفحات میں مع ان کے مسکن کے طبع شدہ ہیں۔اس لئے پیشگوئی کے پورا ہو جانے میں تو کوئی کلام نہیں۔آئیے اب اعتراض کی دوسری شاخ کا جواب دیں۔یادر ہے کہ ان لوگوں میں سے بعض کا بعد میں منحرف یا مخالف ہو جانا بھی پیشگوئی میں قادح نہیں۔دیکھئے تو رات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق حسب ذیل پیشگوئی ہے :- اس نے کہا کہ خداوند سینا سے آیا اور شعیر سے اُن پر طلوع ہوا۔فاران ہی کے پہاڑوں سے وہ جلوہ گر ہوا۔دس ہزار قدوسیوں کے ساتھ آیا اور اس کے داہنے ہاتھ ایک آتشی شریعت اُن کے لئے تھی۔ہاں وہ اس قوم سے بڑی محبت رکھتا ہے۔(استثناء ۲-۳۳) سب مسلمان مانتے ہیں کہ اس میں دس ہزار قدوسیوں سے مراد وہ دس ہزار اصحاب ہیں جو فتح مکہ کے دن حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرکاب تھے۔ہم ایمان لاتے ہیں کہ وہ پیشگوئی پوری ہو گئی۔حالانکہ رسول مقبول کے بعد خلافت صدیقی میں ان میں سے کئی مرتد ہو گئے۔بخاری شریف میں ایک حدیث آتی ہے کہ قیامت کے روز بہت سے لوگوں کو دوزخ کی طرف لے جایا جائے گا تو میں ( نبی کریم ) کہوں گا افقانی اصحابی۔یہ تو میرے صحابہ ہیں۔جواب دیا جائے گا اِنَّكَ لا تدري مَا أَحْدَثُوا بَعْدَك تجھے معلوم نہیں کہ تیرے بعد انہوں نے کیا کیا بدعتیں پیدا کی تھیں۔وہ تیری جدائی کے بعد ارتداد اختیار کر چکے تھے۔کیا ان حالات کے باوجود کوئی مسلمان یہ کہنے کی جرات کرے گا کہ نعوذ باللہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم اس پیشگوئی کے مصداق نہیں؟ ہر گز نہیں! اور دیکھئے قرآن مجید نے اصحاب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی علامت مطابق پیشگوئی تورات أشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ (الفتح رکوع ۴) قرار دی ہے یعنی وہ دشمنوں پر بوجھل اور آپس میں بہت نرم اور رحیم ہیں۔مگر کیا کوئی اس سے انکار کر سکتا ہے کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے درمیان خونریز جنگیں ہوئیں جن میں بہت سے صحابہ شہید ہوئے۔ایک جنگ صفین کے متعلق ہی لکھا ہے اس میں ستر ہزار آدمی مارے گئے؟ لیکن کیا پھر یہ تسلیم کر لینا جائز ہوگا کہ نعوذ باللہ وہ پیشگوئی آنحضرت (430)