تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 406 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 406

پٹیالوی معاند نے اس اعتراض میں اگر ان کے کان نہیں کترے تو ان کے نقش قدم پر چلنے میں تو حَذْوَ النَّعْلِ بِالنَّعْل مطابقت کی ہے۔کیوں نہ ہو مسیح وقت کے دشمن جو ہوئے۔ناظرین کرام ! آپ منشی محمد یعقوب کے مندرجہ بالا اعتراض کی کذب آفرینی کا اسی سے اندازہ کرلیں کہ ان دونوں حوالوں میں اس نے یہود یا نہ تحریف سے کام لیا ہے۔یہ بالکل غلط اور جھوٹ ہے کہ حضرت مرزا صاحب نے دافع البلاء میں پیشگوئی کی تھی کہ قادیان میں ہرگز طاعون نہ ہوگا۔ایسا ہی یہ تحریر بھی مغالطہ آمیز ہے کہ کشتی نوح میں حضور نے لکھا ہے کہ ” میرے مرید طاعون سے محفوظ رہیں گے۔“ ہم اپنے اس دھوئی کے ثبوت میں دافع البلاء اور کشتی نوح کے اقتباسات درج ذیل کرتے ہیں۔حضرت مسیح موعود تحریر فرماتے ہیں :- (الف) طاعون کی قسموں میں سے وہ طاعون سخت بر بادی بخش ہے جس کا نام طاعون جارف ہے۔یعنی جھاڑو دینے والی۔جس سے لوگ جابجا بھاگتے ہیں اور کتوں کی طرح مرتے ہیں۔یہ حالت انسانی برداشت سے بڑھ جاتی ہے۔پس اس کلام الہی میں یہ وعدہ ہے کہ یہ حالت کبھی قادیان پر وارد نہیں ہوگی۔“ ( دافع البلاء صفحہ ۵) (ب) ہم دعوی سے لکھتے ہیں کہ قادیان میں کبھی طاعون جارف نہیں پڑے گی جو گاؤں کو ویران کرنے والی اور کھا جانے والی ہوتی ہے۔“ (حوالہ مذکور ) (ج) ” میری دعا قبول کر کے اللہ تعالیٰ نے فرما دیا کہ میں قادیان کو اس تباہی سے محفوظ رکھوں گا۔خصوصاً ایسی تباہی سے کہ لوگ گتوں کی طرح طاعون کی وجہ سے مریں یہاں تک کہ بھاگنے اور منتشر ہونے کی نوبت آوے۔“ ( دافع البلاء صفحہ ۱۷) (1) کچھ حرج نہیں کہ انسانی برداشت کی حد تک کبھی قادیان میں بھی کوئی واردات شاذ و نادر طور پر ہو جائے جو ہر بادی بخشش نہ (406)