تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 393 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 393

مفسرین نے یہی معنی لکھے ہیں۔ان معنوں کی رُو سے مندرجہ بالا استدلال نہایت قطعی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے کلام میں اس کے ایک اور زیادہ لطیف معنی بھی موجود ہیں۔بہر حال حضرت کے اس بیان پر کہ بعض لوگوں کو شیطانی الہام بھی ہو جاتا ہے جیسا کہ غزنوی عبدالحق اور محی الدین کو ہوئے قرآن مجید کا اشارہ اور تورات و انجیل کی تصریح موجود ہے۔فلا اعتراض۔تورات کے چارسونبی واقعہ کی صحیح نقل کے بعد ہم یہ بھی لکھنا ضروری سمجھتے ہیں کہ جن انبیاء کے متعلق سلاطین ما باب ۲۲ میں ذکر ہے وہ قرآن مجید کی شرعی اصطلاح کے مطابق نبی نہ تھے بلکہ بائیبل کے عام محاورہ کی رُو سے ان کو نبی کہا گیا ہے۔قرآنی انبیاء کی شان میں تو حضرت مسیح موعود کے یہ الفاظ ہیں کہ ان کی وحی میں اگر شیطان دخل دینا بھی چاہے تو وہ دخل بلا توقف نکالا جاتا ہے۔لیکن تو رات سے ان نبیوں کا جو حال ثابت ہے وہ یہ ہے کہ وہ اخیر وقت تک اپنی بات پر بضد رہے۔بلکہ ان میں سے ایک نے میکا یاہ نبی کی راستگوئی پر اس کو ایک تھپڑ بھی مار دیا۔(دیکھو سلاطین ۱ ۲۲/۲۴) پس حضرت مسیح موعود کے الفاظ کے مطابق یہ چارسو نبی قرآنی اصطلاح میں نبی نہ تھے۔بلکہ ضرورۃ الامام صفحہ ۱۳ کی تشریح کے مطابق نا تمام سالک اور تزکیہ نفس میں ادھورے اور ناقص انسان تھے۔پھر ضرورۃ الامام کے زیر بحث حوالہ سے بھی ان کی حیثیت بہت معمولی ثابت ہوتی ہے۔وہ عرب کے کاہنوں کی طرح معلوم ہوتے ہیں۔ضرورۃ الامام صفحہ ۱۷ سے بھی یہی ثابت ہے۔پس اس واقعہ کو پیش کر کے انبیاء علیہم السلام پر جھوٹے الہام کے استدلال کا حضرت مسیح موعود پر الزام لگا نا خود ایک نا پاک الزام ہے۔خود با کھیل کے مفسر بھی ان چار سونبیوں کو بعل کے نبیوں سے الگ اور بالکل معمولی خواب بین تسلیم کرتے ہیں۔امریکہ کے بعض پادریوں نے ایک تفسیر شائع کی ہے اس میں لکھا ہے :- یہ چار سونبی یہوواہ کے نام پر نبوت کرتے تھے۔مگر اس موقع پر وہ جھوٹے ہوئے اور بادشاہ کا پہلے کہنا کہ ان چارسو کے سوائے کوئی اور بھی یہوواہ کا نبی (393)