تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 359 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 359

نی تھی۔پس وہ خدا جس نے ایسا ناطق فیصلہ منسوخ کر دیا اس پر کیا مشکل تھا کہ اس طرح نکاح کو بھی منسوخ یا کسی وقت پر نالدے۔اس قول میں مرزا صاحب نے پیٹ بھر کر جھوٹ بولا ہے۔بلکہ ایک نہیں کئی جھوٹ بولے ہیں۔“ (عشرہ صفحہ ۸۰-۸۱) الجواب۔ہم قبل ازیں لکھ چکے ہیں کہ محمدی بیگم والی پیشگوئی پر مبسوط بحث فصل دہم میں ہوگی اور وہاں پر ہی معترض پٹیالوی کی تحقیق لاثانی کے بجنے اُدھیڑے جائیں گے انشاء اللہ۔اس لئے ہم اس جگہ اس بحث کو چھوڑتے ہیں۔معترض نے حضرت اقدس کے اس بیان کو جو حضرت یونس کی پیشگوئی کے متعلق ہے جھوٹ قرار دیا ہے لہذا ہم اختصاراً اس کے اعتراضات کو درج کر کے اس پیشگوئی پر بحث کرتے ہیں۔مگر پیشتر ازیں یہ ظاہر کر دینا ضروری ہے کہ ہمارے یعنی قرآن مجید اور تمام آسمانی کتابوں کے مذہب کے مطابق وعیدی پیشگوئی اصلاح اور تخویف کے لئے کی جاتی ہے۔بناء بر میں اس غرض کے حاصل ہوجانے پر پیش گوئی بہر حال درست اور بچی سمجھی جائے گی۔قوم یونس پر عذاب کے لئے چالیس دن کا تعین قوله - ”مرزا صاحب کا یہ کہنا کہ حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر چالیس دن تک عذاب نازل ہوگا محض غلط ہے۔اس فیصلہ کا ذکر نہ قرآن شریف میں ہے نہ کسی صحیح حدیث میں نہ تورات وانجیل میں۔عشرہ صفحہ ۸۱) اقول۔حضرت یونس نے اپنی قوم کے لئے عذاب کی پیشگوئی کی۔عذاب نہ آیا بلکہ مل گیا۔ی نفس مضمون ہے جس پر قرآن مجید، احادیث اور تو رات سب متفق ہیں۔آخر الذکر دونوں یعنی تورات واحادیث میں چالیس دن کی تعیین بھی موجود ہے لیکن بایں ہمہ معترض کی دیدہ دلیری اور جسارت قابل داد ہے گویا ع دروغ گویم بر روئے تو ، والا معاملہ ہے۔قرآن مجید اور یونس کی پیشگوئی فرمایا : - فَلَوْلَا كَانَتْ قَرْيَةٌ أَمَنَتْ فَنَفَعَهَا إِيمَانُهَا إِلَّا قَوْمَ يُونُسَ لَمَّا امَنُوا كَشَفْنَا عَنْهُمْ عَذَابَ الْخِزْيِ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا وَمَتَّعْلَهُمْ إِلَى حِينٍ (يونس رکوع ۱) (359)