تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 354 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 354

سے بری نہیں ہے کہ اس نے حق کو علانیہ طور پر زبان سے ظاہر نہیں کیا (رسالہ ضیاء الحق مطبوع مئی ۱۸۹۵ صفحه ۱۶) اس قسم کی اور بھی بہت سی عبارتیں ہیں جن سے ظاہر ہے کہ جب آتھم نے نالش کرنے اور حلف اُٹھانے سے انکار کر دیا اور اس طرح عوام پر حق کو مشتبہ کرنا چاہا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس کی جلد موت اور ہلاکت کا اعلان فرما دیا۔اندریں صورت کشتی نوح صفحہ ۶ کی عبارت کو جھوٹ قرار دینا نہایت درجہ کی خبث باطنی ہے۔فرض کر لو کہ جنگ مقدس کی عبارت میں یہ صراحت نہیں تھی کہ کا ذب صادق سے پہلے مرے گا۔لیکن ان پیشگوئیوں کا کیا جواب دے سکتے ہو جو اسی سلسلہ میں مختلف اشتہارات کے ذریعہ بیان کی گئیں۔اور ان میں آتھم کی جلد موت کا اظہار کیا گیا۔مولوی ثناء اللہ امرتسری نے لکھا ہے :- " مرزا جی کی پیشگوئی ہے کہ عنقریب آتھم مر جائے گا (الہامات صفحہ ۴۷) الغرض اس نمبر میں معترض پٹیالوی نے جو جھوٹ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف منسوب کرنا چاہا ہے وہ محض اس کا دھوکا ہے ورنہ درحقیقت حضرت مسیح موعود کی دونوں پیشگوئیاں موجود ہیں۔فَلَا أَشْكَالَ فِيهِ۔(1) منشی محمد یعقوب صاحب لکھتے ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت مولوی عبد الکریم صاحب رضی اللہ عنہ کی بیماری کے وقت بہت دعائیں کیں۔اس ذکر کے بعد منشی صاحب کے اپنے الفاظ میں اعتراض یہ ہے کہ:- ان دعاؤں میں مرزا صاحب کو دعا کی قبولیت اور ان کی صحت کی بشارت بھی دو بار ملی۔الحکم ۱۰ رستمر ۱۹۰۵ ء و ۲۴ ستمبر ۱۹۰۵ ء جن میں بشارات صحت درج ہیں۔لیکن مولوی عبد الکریم ۱۱ اکتوبر ۱۹۰۵ء کو مر گئے اور قبولیت دعا کی بشارات غلط ثابت ہوئیں۔ان بشا رات کے مقابلہ میں مرزا صاحب کا سفید جھوٹ ( خاکش بدہن۔مؤلف ) ملاحظہ ہو حقیقۃ الوحی کے صفحہ ٣٢۶ میں لکھتے ہیں کہ ” ایک مخلص دوست یعنی مولوی عبد الکریم صاحب مرحوم اس بیماری کا ربنکل یعنی سرطان سے فوت ہو گئے تھے ان کے لئے میں نے (354)