تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 319 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 319

عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِهِ لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ، ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ جَزِينَ (الحاقہ رکوع ۲) جس سے حضور نے مفتری کی ہلاکت کا قانون اخذ فرمایا ہے۔ہم فصل اول میں لَوْ تَقَولَ کے متعلق سیر کن بحث کر چکے ہیں اسلئے اس جگہ صرف چند حوالوں پر اکتفا کرتے ہیں۔لو تَقَوَّلَ عَلَيْنَا کی تفسیر میں لکھا ہے :- (الف) مولوی ثناء اللہ امرتسری بایں الفاظ ترجمہ کرتے ہیں :- ”اگر یہ رسول ہمارے ذمہ کوئی بات لگاوے جس کے کہنے کی اُسے اجازت نہو تو ہم اس کو فوراً ہلاک کر ڈالیں۔( تفسیر بنائی جلد ۳ صفحہ ۱۸۵ حاشیہ) (ب) علامہ زمخشری فرماتے ہیں :- " وَالْمَعْنَى لَوْادَّعَى عَلَيْنَا شَيْئًا لَمْ نَقُلُهُ لَقَتَلْنَاهُ صَبْرًا كَمَا يَفْعَلُهُ الْمُلُوكَ بِمَنْ يَتَكَذَّبُ عَلَيْهِمْ مُعَاجَلَةً بِالسُّخْطِ وَالْاِنْتِقَامِ " (تفسیر کشاف صفحه ۱۵۲۴ مطبوعہ کلکته ) (ج) امام ابوجعفر طبری لکھتے ہیں :- ” وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا مُحَمَّدٌ بَعْضَ الْآقَاوِيْلِ الْبَاطِلَةِ وَتَكَذَّبَ عَلَيْنَا لَاخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ يَقُولُ لَآخَذْنَا مِنْهُ بِالْقُوَّةِ مِنَّا وَالْقُدْرَةِ ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ نِيَاطَ الْقَلْبِ وَإِنَّمَا يَعُنِي بِذَالِكَ أَنَّهُ كَانَ يُعاجِلُهُ بِالْعُقُوبَةِ وَلَا يُؤَخِّرُهُ بِهَا “ ( ابن جریر جلد ۹ صفحه ۴۲۲) (1) علامہ فخر الدین راز می تحریر فرماتے ہیں :- هَذَا ذِكْرُهُ عَلَى سَبِيلِ التَّمْثِيْلِ بِمَا يَفْعَلُهُ الْمُلُوكَ بِمَنْ يَتَكَذَّبُ عَلَيْهِمْ فَإِنَّهُمْ لَا يُمْهِلُونَهُ بَلْ يَضْرِبُونَ رَقْبَتَهُ فِي الحال “ ( تفسیر کبیر جلد ۸ صفحه ۲۹۱) یہ چاروں گواہ اس بات پر متفق ہیں کہ آیت کو تقول میں جھوٹے مدعی الہام وثبوت کو فوراً سزا دینے کا ذکر ہے۔اب اگر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایسا لکھ دیا تو اندھے مخالف اس کو ے ان عربی عبارتوں کا ترجمہ فصل اول میں گزر چکا ہے۔(مؤلف) (319)