تفہیماتِ ربانیّہ — Page 320
افتراء قرار دے رہے ہیں۔تِلْكَ إِذَا قِسْمَةٌ ضِيزى - پس پہلی آیت جسے خود حضرت مسیح موعود نے انجام آتھم میں ذکر فرمایا اور جو اس باب میں نہایت شاندار دلیل ہے وہ وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الاقاویل ہی ہے۔اس کے علاوہ مندرجہ ذیل آیات بھی اسی مضمون کو بیان کر رہی ہیں۔(١) قَالَ لَهُمْ مُوسَى وَيْلَكُمْ لَا تَفْتَرُوا عَلَى اللهِ كَذِبًا فَيُسْحِتَكُمْ بِعَذَابٍ: وَقَدْ خَابَ مَنِ افْتَری (طه رکوع ۳) ترجمہ - موسیٰ علیہ السلام نے ان سے کہا کہ خدا تعالیٰ پر جھوٹا افتراء نہ کرو ورنہ وہ تم کو سخت عذاب سے برباد کر دے گا۔(٢) وَإنْ يَكُ كَاذِبَأَ فَعَلَيْهِ كَذِبُة - الاية ( المؤمن رکوع ۴) ترجمہ۔اگر یہ جھوٹا ہے تو اس پر اس کا وبال آئے گا۔(۳) إِنَّ الَّذِينَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَيَنَالُهُمْ غَضَبٌ مِّنْ رَّتِهِمْ وَذِلَّةٌ فِي الْحَيَوةِ الدُّنْيَا، وَكَذَلِكَ نَجْزِي الْمُفْتَرِينَ ) (الاعراف رکوع ۱۹ ) ترجمہ۔جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا ان کو اسی دنیا میں خدا کا غضب اور ذلت پکڑ لیتی ہے اور مفتری اور کا ذبوں کو ہم یہی سزاد یا کرتے ہیں۔(۴) وَمَنْ أَظْلَمُ مِمَّنِ افْتَرَى عَلَى اللهِ كَذِبًا أَوْ كَذَّبَ بِأَيْتِهِ إِنَّهَ لَا يُفْلِحُ الظَّلِمُوْنَ (الانعام رکوع ۳) ترجمہ کون بڑا ظالم ہے اس شخص سے جو اللہ تعالیٰ پر افتراء باندھے یا اس کی آیات کی تکذیب کرے ( طریق فیصلہ یہ ہے کہ ) تحقیق ظالم کبھی اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکتے۔“ ایسی ہی اور بھی متعدد آیات ہیں جن میں یہی مضمون بیان ہوا ہے۔اس قدر واضح آیات کی موجودگی میں معترض کا یہ کہنا کہ قرآن مجید میں ایسا کہیں ذکر نہیں بہت بڑا مغالطہ اور غلط بیانی ہے جبکہ قرآن پاک مفتری کی جلد تباہی و بربادی کا قائل ہے اور مفسرین نے بھی ایسا ہی ذکر کیا ہے۔اور اسی بناء پر اہلسنت والجماعت کی مشہور کتاب عقائد نسفی میں لکھا ہے کہ اللہ تعالیٰ مفتری کو تئیس برس مہلت نہیں دیتا۔اور ے یہ آیت اور جگہ بھی آئی ہے اسلئے نصوص کا مطالبہ پورا ہو گیا۔سے مطبوعہ مجتبائی صفحہ ۱۰۰ (320)