تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 315 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 315

سب کو جمع کر دیا ہوتا۔تا افتراؤں کا انبار جمع ہو جاتا۔افسوس کہ نادان مخالف معاندت میں عدل کے طریق کو بالکل خیر باد کہہ دیتے ہیں لیکن وہ بھی معذور ہیں کیونکہ اس کے بغیر مخالفت کرنا ناممکن ہے۔واضح رہے کہ معترض مذکور نے عشرہ کاملہ کی پہلی فصل میں یہی دعویٰ کیا تھا بلکہ انہی الفاظ میں ذکر کیا تھا۔ہم بہت تفصیل سے اس جگہ اس کے متعلق بحث کر چکے ہیں لیکن تاہم مختصر ا اس جگہ ذکر کرنا بھی ضروری ہے۔حضرت مسیح موعود کی تحدی حضور نے انجام آتھم کے مندرجہ بالا اقتباسات میں بتایا ہے کہ افتراء کرنے والا جلد موردِ سزا ہوتا ہے۔حضور کی تحریر میں اس جگہ افتراء سے کیا مراد ہے؟ فرمایا :- افتراء سے مراد ہمارے کلام میں وہ افتراء ہے کہ کوئی شخص عمدا اپنی طرف سے بعض کلمات تراش کر یا ایک کتاب بنا کر پھر یہ دعویٰ کرے کہ یہ باتیں خدا تعالے کی طرف سے ہیں اور اس نے مجھے الہام کیا ہے اور ان باتوں کے بارے میں میرے پر اس کی وحی نازل ہوئی ہے حالانکہ کوئی وحی نازل نہیں ہوئی۔سو ہم نہایت کامل تحقیقات سے کہتے ہیں کہ ایسا افتراء کبھی کسی زمانہ میں چل نہیں سکا۔الہ ( انجام آتھم صفحہ ۶۳ حاشیہ ) اس عبارت سے جس کا آخری حصہ معترض نے بھی تیسرے نمبر میں ذکر کیا ہے افتراء کی تعریف ظاہر ہے۔حضور کو اس بیان پر کامل تحقیقات کا دعوئی ہے۔بلکہ یہاں تک کہ آپ نے اس کے مختلف نظیر لانے والے کو پانسور و پیرا انعام دینے کا بھی اعلان فرمایا جیسا کہ تحریر فرماتے ہیں :- اگر یہ بات صحیح ہے کہ کوئی شخص نبی یا رسول اور مامورمن اللہ ہونے کا دعویٰ کر کے اور گھلے گھلے طور پر خدا کے نام پر کلمات لوگوں کو سنا کر پھر باوجود مفتری ہونے کے تیس برس تک جو زمانہ وحی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ہے زندہ رہا ہے تو میں ایسی نظیر پیش کرنے والے کو بعد اس کے جو مجھے میرے ثبوت کے موافق یا قرآن کے ثبوت کے موافق ثبوت دے دے پانسور و پیه نقد دونگا ( اربعین نمبر ۳ صفحه ۱۵) یہ اقتباس ایک طرف حضور کے یقین تام پر زبردست گواہ ہے اور دوسری طرف اس نے مفتری (315)