تفہیماتِ ربانیّہ

by Other Authors

Page 26 of 831

تفہیماتِ ربانیّہ — Page 26

صد افسوس۔مقام حیرت ہے کہ وہ حقیقت ثابتہ جس نے بقول امام ابن القیم عیسائی مناظر کو مبہوت کر دیا اور وہ کوئی نظیر اتنی مہلت پانے والے کی پیش نہ کر سکا۔منشی محمد یعقوب صاحب کی ایک حرکت قلم سے باطل ہوگئی۔العجب ثم العجب۔ضمیر کی آواز ناظرین کرام! آپ نے ملاحظہ فرمایا کہ معترض پٹیالوی نے رکس شد ومد اور زور کے ساتھ اس بات کا ذکر کیا ہے کہ جھوٹے ہی سر سبز ہوتے رہے، وہ نئیس سال مہلت پاتے رہے ہیں۔ہم دلائل سے اصولی طور پر اس کے دعوی کی تغلیط کر چکے ہیں۔اب ہم یہ بتانا چاہتے ہیں کہ در حقیقت مکذب کی فطرت اور ضمیر بھی اس کے خلاف ہے۔اس نے ضمیر کشی کر کے محض حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اعتراض کرنے کی خاطر، یہ سب باتیں بیان کی ہیں۔چنانچہ اس کے اپنے دو حوالے درج ذیل ہیں۔لکھتا ہے :- (1) اللہ کریم بھی مفتریوں کے ہاتھ میں بھی کوئی روشن دلیل دیا کرتا ہے؟ ایسے لوگ تو داؤ پیچ۔ہوشیاری و چالا کی۔تاویلات رکیکہ و توجیہات باطلہ۔دھو کے اور دم سازی تصنع اور سخن سازی سے ہی کچھ فائدہ اُٹھالیا کرتے ہیں اور وہ بھی تھوڑے دن۔بالآخر حق حق ہو کر رہتا ہے اور باطل باطل۔اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوقًا ( تحقیق لاثانی صفحه ۶۴) - (۲) اس تیرہ سو برس کے عرصہ میں ایسے بہت لوگ گزرے ہیں جنہوں نے جھوٹے دعوے کئے اور جھوٹے الہام سنائے لیکن سنتِ الہی کے مطابق بعض جلد اور بعض کچھ عارضی فروغ کے بعد انجام کار خائب و خاسر اس جہان سے کا کا رخصت ہوئے۔“ (عشرہ کاملہ صفحہ ۵۲) معزز قارئین! ہر دو اقتباس آپ کے سامنے ہیں۔تشریح کی ضرورت نہیں۔صاف طور پر مذکور ہے کہ مفتریوں کو تھوڑے دن ہی مہلت ملتی ہے اور وہ بہر حال ” خائب و خاسر “ اس جہان سے جاتے ہیں۔خواہ جلد یا زیادہ سے زیادہ ” کچھ عارضی فروغ کے بعد۔الغرض معترض پٹیالوی کی ضمیر بھی یہی کہتی ہے کہ مفتری کامیاب نہیں ہو سکتا۔وہ جلد تباہ و برباد کر دیا جاتا ہے۔اور اگر اس کو کچھ وقتی فروغ حاصل بھی ہو تو وہ بلبل آب 26